السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8831
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَاتَ بِهَا يَعْنِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ حَمِدَ، وَسَبَّحَ، وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، وَنَحَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، كَذَا قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ، وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ فَأَضَافَ ذَلِكَ إِلَى غَيْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحلیفہ میں رات گزاری حتیٰ کہ صبح ہوئی، پھر سوار ہو کر جب بیداء پر پہنچے تو اللہ کی حمد، تسبیح اور تکبیر بیان کی اور حج و عمرہ کا تلبیہ کہا اور لوگوں نے بھی حج و عمرہ دونوں کا تلبیہ کہا، تو جب ہم پہنچے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا، وہ حلال ہو گئے، حتیٰ کہ جب یومِ ترویہ تھا تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا اور نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کے ساتھ سات کھڑے اونٹ نحر کیے۔