کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بات کی دلیل کہ نبی ﷺ نے مطلق احرام باندھا اور حکمِ الٰہی کے منتظر رہے، پھر آپ ﷺ نے حجِ افراد کا حکم دیا، اور خود بھی حجِ افراد ادا فرمایا۔
حدیث نمبر: 8821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ جَعْفَرُ بْنُ هَارُونَ النَّحْوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ صَدَقَةَ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حدَّثَتْنِي عَمْرَةُ بِنْتُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ، لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ يَعْنِي وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْ يَحِلَّ، قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: فَدُخِلَ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟، فَقِيلَ: ذَبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَزْوَاجِهِ " قَالَ: فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، فَقَالَ: وَاللهِ أَتَتْكَ بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَخْلَدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ عَنْ سُلَيْمَانَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مَالِكٌ وَابْنُ عُيَيْنَةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم ذوالقعدہ کی پچیس تاریخ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمارا ارادہ صرف حج کا ہی تھا، حتیٰ کہ ہم مکہ کے قریب ہوئے تو جن کے پاس قربانی نہیں تھی، ان کو رسول اللہ ﷺ نے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا طواف کرنے کے بعد حلال ہونے کا حکم دے دیا، فرماتی ہیں کہ جب قربانی کا دن تھا تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا تو میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ تو کہا گیا: ”رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ذبح کی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8821
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1633۔ مسلم 1211»
حدیث نمبر: 8822
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةَ النَّفْرِ، حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلْقَى عَقْرَى مَا أَرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَكُمْ "، قَالَ: " هَلْ كُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟ "، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: " فَانْفِرِي "، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي لَمْ أَكُنْ أَهْلَلْتُ، قَالَ: " فَاعْتَمِرِي مِنَ التَّنْعِيمِ "، قَالَ: فَخَرَجَ مَعَهَا أَخُوهَا، قَالَ: فَلَقِيَنَا مُدْلِجًا، فَقَالَ: " مَوْعِدُكَ كَذَا وَكَذَا "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ، يُقَالُ: إِنَّهُ ابْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَاضِرٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہمیں صرف حج ہی مقصود تھا۔ جب ہم پہنچے تو ہمیں آپ ﷺ نے حلال ہونے کا حکم دے دیا، تو جب واپسی کی رات تھی صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا حائضہ ہو گئیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”گنجی اور لنگڑی کہیں کی! لگتا ہے یہ تمہیں روک دے گی“، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے یومِ نحر کو طواف کیا تھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: «لَیْسَ» ”پس تو نکل“۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے عمرہ کا تلبیہ نہیں (پکارا)، کیا (میں محروم رہی)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تنعیم سے عمرہ کر لے“، تو ان کے ساتھ ان کا بھائی گیا، پس آپ ﷺ ہمیں رات کے وقت ملے اور فرمایا: ”تمہاری جگہ فلاں فلاں ہے“۔
(ب) صحیح بخاری میں راوی محمد سے روایت ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور صرف حج کا تلبیہ کہتے تھے“۔
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم حج اور عمرہ کے تلبیہ کا نام نہیں لیتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8822
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 1682»
حدیث نمبر: 8823
وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، بِإِسْنَادِهِ، قَالَتْ: " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي، لَا نَذْكُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ فَذَكَرَهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ سَعِيدٍ،.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8823
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1211»
حدیث نمبر: 8824
وَرَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا نَرَى إِلَّا أَنَّ الْحَجَّ، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، فَذَكَرَهُ، وَقَدْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ وَكُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَى مَعْنًى وَاحِدٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8824
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»
حدیث نمبر: 8825
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَيَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ حُجَيْرٍ، سَمِعُوا طَاوُسًا، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ لَا يُسَمِّي حَجًّا وَلَا عُمْرَةً، يَنْتَظِرُ الْقَضَاءَ، فَنَزَلَ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَهُوَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ مِنْ كَانَ مِنْهُمْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً، وَقَالَ: " لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمَا سُقْتُ الْهَدْيَ، وَلَكِنِّي لَبَّدْتُ رَأْسِي، وَسُقْتُ هَدْيِي، فَلَيْسَ لِي مَحِلٌّ إِلَّا مَحِلَّ هَدْيِي "، فَقَامَ إِلَيْهِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ اقْضِ ⦗١٠⦘ لَنَا قَضَاءَ قَوْمٍ كَأَنَّمَا وُلِدُوا الْيَوْمَ، أَعُمْرَتُنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلْ لِلْأَبَدِ دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: فَدَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بِمَ أَهْلَلْتَ؟ "، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: لَبَّيْكَ إِهْلَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: الْآخَرُ لَبَّيْكَ حَجَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج و عمرہ کا نام لیے بغیر مدینہ سے نکلے اور اللہ کی طرف سے فیصلے کا انتظار کرتے رہے حتیٰ کہ آپ ﷺ صفا و مروہ کے درمیان تھے تو آپ پر فیصلہ نازل ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ جس نے حج کا احرام باندھا ہے اور اس کے پاس قربانی نہیں ہے تو وہ اس کو عمرہ ہی بنا لے اور فرمایا: ”اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہو جاتا جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی نہ لے کر آتا، لیکن میں نے سر پر تلبیہ کیا ہے اور اپنی قربانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا میرے لیے حلال ہونے کی جگہ قربانی کے حلال ہونے کی جگہ کے علاوہ نہیں ہے۔“ تو سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمیں فیصلہ کن بات بتائیں گویا کہ ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں، کیا یہ عمرہ صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے، قیامت تک عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تم نے کیا تلبیہ کہا تھا؟“ تو انہوں نے عرض کیا کہ میں نے نبی ﷺ والا تلبیہ کہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8825
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ مسند شافعي 504»
حدیث نمبر: 8826
أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ الْمِهْرَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: أَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ حِجَجٍ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ "، قَالَ: " فَاجْتَمَعَ بِالْمَدِينَةِ بَشَرٌ كَثِيرٌ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ أَوْ لِأَرْبَعٍ، فَلَمَّا كَانَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، صَلَّى ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَلَمَّا أَخَذَتْ بِهِ فِي الْبَيْدَاءِ، لَبَّى وَأَهْلَلْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ ".
حافظ ثناء اللہ
جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ میں نو سال تک رہے، لیکن حج نہ کیا، پھر لوگوں میں حج کا اعلان کروایا تو مدینہ میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ ابھی ذی القعدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ رسول اللہ ﷺ مدینے سے نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو نماز پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب بیدا پر پہنچے تو تلبیہ کہا اور ہماری صرف حج کرنے کی ہی نیت تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8826
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 8827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ - وَرُبَّمَا زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ - قَالُوا: ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلِيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي، فَنَزَعَ زِرِّي الْأَعْلَى ثُمَّ نَزَعَ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيِيَّ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحبًا بِكَ وَأَهَلًا يَا ابْنَ أَخِي، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، وَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا يَعْنِي ثَوْبًا مُلَفَّفًا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مِنْكَبِهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا فَصَلَّى بِنَا وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، حَتَّى أَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ؟ فَقَالَ: " ⦗١١⦘ اغْتَسِلِي وَاسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ، وَأَحْرِمِي"، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ جَابِرٌ: نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا، وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ، فَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا، بِهِ فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ: " لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا بِهِ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ، اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ تَقَدَّمَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَرَأَ {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: ١٢٥]، فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، - قَالَ: فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: قَالَ: ابْنُ نُفَيْلٍ وَعُثْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ ذَكَرَهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: - قَالَ: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَابِ إِلَى الصَّفَا، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الصَّفَا قَرَأَ {إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ} [البقرة: ١٥٨]، نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِهِ وَبَدَأَ بِالصَّفَا، فَرَقِيَ عَلَيْهِ حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ فَكَبَّرَ وَحْدَهُ، وَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَقَالَ مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ، حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي، حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى، حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَصَنَعَ عَلَى الْمَرْوَةِ مِثْلَ مَا صَنَعَ عَلَى الصَّفَا، حَتَّى إِذَا كَانَ آخِرُ الطَّوَافِ عَلَى الْمَرْوَةِ، قَالَ: " إِنِّي لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقِ الْهَدْيَ، وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ؟، فَشَبَّكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: " دَخَلْتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ، هَكَذَا مَرَّتَيْنِ، لَا بَلْ لِأَبَدِ آبِدٍ، لَا بَلْ لِأَبَدِ آبَدٍ"، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا، وَاكْتَحلَتْ، فَأَنْكَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، وَقَالَ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا؟، فَقَالَتْ: أَبِي، قَالَ: فَكَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي صَنَعَتْهُ مُسْتَفْتِيًا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي أَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَبِي أَمَرَنِي بِهَذَا، فَقَالَ: " صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتَ حينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: اللهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ، فَلَا تَحْلِلْ"، قَالَ: وَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي قَدِمَ بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ الْيَمَنِ، وَالَّذِي⦗١٢⦘ أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ مِائَةً، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا، إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى، أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ، وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ لَهُ مِنْ شَعْرٍ، فَضُرِبَتْ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللهَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ، أَمَرَ بِالْقَصْوَى فَرُحِّلَتْ لَهُ، فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا إنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ تَحْتَ قَدَمِيَّ مَوْضُوعٌ، وَدِمَاءَ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دِمَاؤُنَا"، - قَالَ عُثْمَانُ: دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ، وَقَالَ سُلَيْمَانُ: دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ: كَانَ مُسْتَرْضَعًا فِي بَنِي سَعْدٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ -، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُ رِبَانَا رِبَا عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللهِ، وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟ "، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، ثُمَّ قَالَ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى السَّمَاءِ وَيُنَكِّبُهَا إِلَى النَّاسِ: " اللهُمَّ اشْهَدْ، اللهُمَّ اشْهَدْ، اللهُمَّ اشْهَدْ"، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ لَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ، حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حينَ غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ خَلْفَهُ، فَدَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَنَقَ لِلْقَصْوَاءِ الزِّمَامَ، حَتَّى إنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى: " السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ، السَّكِينَةَ أَيُّهَا النَّاسُ"، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ، حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَجَمَعَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ، قَالَ عُثْمَانُ: وَلَمْ يُسَبِّحْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ، قَالَ سُلَيْمَانُ: بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ ثُمَّ اتَّفَقُوا، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ، قَالَ عُثْمَانُ، وَسُلَيْمَانُ: فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَحَمِدَ اللهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ، زَادَ عُثْمَانُ: وَوَحَّدَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، ثُمَّ دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعْرِ أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّعْنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى وَجْهِ الْفَضْلِ، وَصَرَفَ⦗١٣⦘ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، وَحوَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، وَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ، حَتَّى إِذَا أَتَى مُحَسِّرًا حَرَّكَ قَلِيلًا، ثُمَّ سَلَكَ طَرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ عَلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى إِذَا أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا بِمِثْلِ حَصَى الْحَذْفِ، فَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ بِيَدِهِ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ، وَأَمَرَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَنَحَرَ مَا غَبَرَ، يَقُولُ: مَا بَقِيَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ، فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ أَفَاضَ، قَالَ سُلَيْمَانُ: ثُمَّ رَكِبَ فَأَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ، فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ، فَقَالَ: " انَزِعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَلَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ"، فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَقَالَ: دَمُ ابْنِ رَبِيعَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے ہمارا تعارف لیا، جب میری باری آئی تو میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا اور میرا اوپر والا اور نچلا بٹن کھولا اور اپنی ہتھیلی کو میرے سینہ پر رکھا۔ ان دنوں میں نوجوان تھا اور فرمایا: ”اے میرے بھائی کے بیٹے! خوش آمدید جو چاہتا ہے پوچھ“، تو میں نے ان سے سوال کیا جبکہ وہ نابینا تھے۔ نماز کا وقت ہوا تو وہ اپنی چادر لپیٹ کر کھڑے ہو گئے، جب بھی چادر کو کندھے پر ڈالتے تو چھوٹی ہونے کی بنا پر وہ نیچے آ جاتی۔ انہوں نے چادر کو کھونٹی پر ایک طرف لٹکا کر ہمیں نماز پڑھائی تو میں نے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں بتائیں، انہوں نے اپنے ہاتھ کے ساتھ نو کی گرہ لگائی، پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نو سال تک رہے اور حج نہ کیا، پھر آپ ﷺ نے دسویں سال حج کا اعلان کروایا تو مدینہ میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے تاکہ وہ رسول اللہ ﷺ کی اقتدا کریں اور آپ ﷺ جیسا عمل کریں، تو رسول اللہ ﷺ اور ہم بھی آپ کے ساتھ ہی نکلے حتیٰ کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ میں کیسے کروں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”غسل کر لے اور لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ۔“ رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں نماز پڑھائی، پھر قصواء پر سوار ہوئے حتیٰ کہ آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر بیداء پر پہنچی۔
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے آپ کے آگے پیچھے دائیں بائیں تاحدِ نگاہ سوار اور پیادہ لوگ دیکھے اور رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے اور ان پر قرآن اترتا تھا اور وہ اس کی تاویل کو جانتے تھے تو جو کوئی عمل آپ نے کیا ہم نے بھی وہی کیا، پس آپ ﷺ نے توحید کا تلبیہ کہا: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكُ لَا شَرِيكَ لَكَ» ”حاضر ہوں! اے اللہ! میں حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، یقیناً حمد اور نعمت تیری ہی ہے اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں ہے“ اور لوگوں نے وہی تلبیہ کہا جو وہ کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان پر کچھ بھی رد نہیں کیا اور اپنا تلبیہ جاری رکھا، جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے صرف حج ہی کی نیت کی تھی اور عمرہ کا تو ہمیں پتہ بھی نہیں تھا حتیٰ کہ ہم بیت اللہ پہنچے، آپ ﷺ نے رکن کا استلام کیا۔ تین چکر چلے اور چوتھے میں رمل کیا، پھر مقامِ ابراہیم کی طرف بڑھے اور یہ آیت پڑھی: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] تو آپ ﷺ نے مقام کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان کر لیا۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتوں میں سورۃ الاخلاص اور سورۃ الکافرون پڑھی، پھر بیت اللہ کی طرف آئے، رکن کا استلام کیا۔ پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے، جب صفا کے قریب ہوئے تو یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا و مروہ یقیناً اللہ کی نشانیاں ہیں۔“
”ہم وہیں سے آغاز کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے آغاز کیا ہے۔“ پس آپ ﷺ نے صفا سے آغاز کیا، اس پر چڑھے حتیٰ کہ بیت اللہ کو دیکھا اور خدائے واحد کی بڑائی بیان کی اور فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اس کی ہے اور اس کے لیے ہی حمد ہے، وہ زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے، اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے نے ہی لشکروں کو شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان دعا کی اور تین مرتبہ ایسا ہی کہا، پھر اتر کر مروہ آئے حتیٰ کہ جب ان کے پاؤں گڑ گئے تو وادی کے درمیان میں رمل کیا حتیٰ کہ جب چڑھے تو آرام سے چلے، یہاں تک کہ مروہ پہنچ گئے اور مروہ پر بھی ویسے ہی کیا جیسا کہ صفا پر کیا تھا، حتیٰ کہ جب مروہ کا آخری طواف تھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے اس معاملہ کا پہلے علم ہو جاتا، جس کا بعد میں ہوا ہے تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا اور اس کو عمرہ ہی بنا لیتا تو تم میں سے جس کے پاس قربانی نہیں ہے وہ حلال ہو جائے اور اس کو عمرہ بنا لے“، تو سارے لوگ ہی حلال ہو گئے اور انہوں نے بال کٹوائے، سوائے رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے جن کے پاس قربانی تھی تو سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ ہمارے اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو آپ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا، پھر فرمایا: ”عمرہ حج کے اندر داخل ہو گیا“، اس طرح دو مرتبہ فرمایا: ”بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے“ فرماتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ یمن سے نبی ﷺ کے قربانی والے اونٹ لے کر آئے تو انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جو حلال ہو گئے تھے اور انہوں نے رنگین کپڑے پہن لیے، سرمہ لگایا تو علی رضی اللہ عنہ نے اس کو برا سمجھا اور کہا: تجھے اس کا کس نے کہا تھا؟ کہنے لگی: میرے والد نے! اور علی رضی اللہ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے کہ اس معاملہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا پر غصہ ہو کر رسول اللہ ﷺ کے پاس اس بارے میں فتویٰ لینے گیا جو اس نے کیا تھا اور میں نے انہیں بتایا کہ میں نے یہ سب ناپسند کیا ہے تو اس نے کہا: میرے والد نے مجھے کہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا ہے، تو نے حج فرض کرتے ہوئے کیا کہا تھا؟“ کہنے لگے: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں، جو رسول اللہ ﷺ نے باندھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو میرے پاس قربانی ہے لہٰذا تو حلال نہ ہو۔“ فرماتے ہیں: وہ ساری قربانیاں جن کو آپ ﷺ مدینہ سے اور علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے، ان کی تعداد ایک سو تھی تو سارے لوگ حلال ہو گئے اور بال کٹوائے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ اور جس کے پاس قربانی تھی حلال نہ ہوئے۔
فرماتے ہیں: جب یومِ ترویہ تھا اور لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا، رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور ظہر، عصر، مغرب، عشا اور صبح کی نماز منیٰ میں پڑھی۔ پھر تھوڑی سی دیر ٹھہرے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو گیا۔ آپ نے اپنے بالوں والے قبے کا حکم دیا تو اس کو نمرہ میں لگا دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ چلے اور قریش کو شک نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ مشعرِ حرام کے پاس مزدلفہ میں رکیں گے جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے، آپ ﷺ نے تجاوز کیا حتیٰ کہ عرفہ میں پہنچے اور قبہ کو نمرہ میں لگا ہوا پایا، وہیں اترے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے قصواء کا حکم دیا، اس پر کجاوا کسا گیا، آپ ﷺ اس پر سوار ہوئے حتیٰ کہ وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”تمہارے خون اور مال تم پر اس مہینے، اس شہر اور اس دن کی حرمت کی طرح حرام ہیں۔ خبردار! جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں تلے رائیگاں ہے، جاہلیت کے خون رائیگاں ہیں اور سب سے پہلے میں اپنے خونوں کو رائیگاں قرار دیتا ہوں، یعنی ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب کا خون، جس کو ہذیل نے قتل کیا اور وہ بنی سعد میں دودھ پینے کے لیے گیا ہوا تھا اور جاہلیت کا سود رائیگاں ہے اور سب سے پہلے میں جس سود کو رائیگاں قرار دیتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا سود ہے، وہ سب کا سب رائیگاں ہے، ختم ہے۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے ان کو اللہ کی امانت سے حاصل کیا ہے، ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ کے ساتھ حلال کیا ہے اور ان پر لازم ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں، جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو ان کو ہلکا پھلکا مارو اور تم پر ان کی خوراک اور لباس معروف طریقے سے واجب ہے اور میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور وہ کتاب اللہ ہے اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے؟“ وہ کہنے لگے: ہم گواہی دیں گے کہ یقیناً آپ نے پہنچا دیا ہے اور ادا کر دیا ہے اور نصیحت کی ہے، پھر آپ نے اپنی شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھایا اور لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ”اے اللہ! گواہ ہو جا! اے اللہ! گواہ ہو جا!“ پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی اور پھر اقامت کہی۔ آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی پھر اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھائی۔ ان دونوں کے درمیان کچھ نہ پڑھا، پھر قصواء پر سوار ہوئے حتیٰ کہ موقف کے پاس آئے اور اپنی قصواء اونٹنی کا رخ چٹانوں کی طرف کیا اور جبلِ مشاۃ کو اپنے سامنے کیا اور قبلہ رخ ہوئے اور وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور کچھ زردی چلی گئی جب سورج غائب ہوا تو اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھایا اور رسول اللہ ﷺ گئے اور قصواء کی مہار کو خوب کھینچا حتیٰ کہ اس کا سر کجاوے کی لکڑی کے ساتھ لگنے کو ہو گیا اور آپ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے: ”آرام سے لوگو! آرام سے“، جب بھی کسی پہاڑی پر آتے تو اس کی مہار ڈھیلی کر دیتے حتیٰ کہ وہ چڑھ جاتی، یہاں تک کہ آپ مزدلفہ میں پہنچے اور وہاں مغرب و عشا کو ایک ہی اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ جمع کیا اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی، پھر آپ ﷺ لیٹ گئے حتیٰ کہ فجر طلوع ہوئی تو فجر کی نماز پڑھی جب صبح ظاہر ہوئی ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ۔ پھر قصواء پر سوار ہوئے حتیٰ کہ مشعرِ حرام کے پاس آئے اور اس پر چڑھے اور قبلہ رخ ہو کر تکبیر و تحلیل اور اللہ کی حمد بیان کی اور وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ خوب سفیدی ہو گئی، پھر وہاں سے لوٹے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا اور وہ خوبصورت بالوں والا سفید خوشنما شخص تھا، جب رسول اللہ ﷺ چلے تو عورتیں جا رہی تھیں اور فضل ان کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ فضل کے چہرے پر رکھا اور فضل نے اپنے چہرے کو دوسری طرف پھیر لیا اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیرا اور فضل نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا حتیٰ کہ وادیِ محسر میں پہنچے تو تھوڑی سی حرکت دی، پھر درمیانے راستے پر چلے جو جمرۂ کبریٰ کی طرف جاتا ہے حتیٰ کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے قریب ہے اور اس کو سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے تھے، وادی کے درمیان سے آپ ﷺ نے کنکریاں ماریں، پھر قربان گاہ کی طرف گئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ قربانیاں کیں اور علی رضی اللہ عنہ کو باقی ماندہ پر امیر مقرر کیا تو وہ انہوں نے ذبح کیں اور ان کو اپنی قربانیوں میں شریک کر لیا، پھر ہر اونٹ سے کچھ گوشت لانے کا حکم دیا اس کو ہنڈیا میں ڈال کر پکایا گیا تو دونوں نے وہ گوشت کھایا اور شوربا پیا، پھر وہاں سے لوٹے اور بیت اللہ کی طرف آئے، مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی، پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے وہ پانی پلا رہے تھے تو آپ ﷺ نے ان کو فرمایا: ”اے بنی عبدالمطلب! پانی نکالو اگر اس بات کا خدشہ نہ ہوتا کہ لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ مل کر پانی کھینچتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 8827
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1218»