السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8829
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنَّمَا أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَحْدَهُ، قَالَ: فَلَقِيتُ أَنَسًا، فَحدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا يَعُدُّونَنَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً " ⦗١٤⦘ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُرَيْجِ بْنِ يُونُسَ عَنْ هُشَيْمٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ عَنْ حُمَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حج و عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ کہتے ہوئے سنا۔ بکر بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بتائی تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تو صرف حج کا تلبیہ کہا تھا، فرماتے ہیں کہ میں پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو ملا اور یہ بات سنائی تو وہ کہنے لگے کہ وہ تو ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہیں، میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً» ”میں حاضر ہوں عمرہ اور حج کے لیے“ کہتے ہوئے سنا ہے۔