السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8844
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، حدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا شَأْنُ النَّاسِ حَلُّوا وَلَمْ تَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِكَ؟، قَالَ: " إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي، وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنَ الْحَجِّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ کیا وجہ ہے کہ لوگ حلال ہو گئے ہیں، لیکن آپ ﷺ حلال نہیں ہوئے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنی قربانی کو قلادہ پہنایا ہے اور سر کو لیپ دیا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتا، جب تک حج سے حلال نہ ہو جاؤں۔“