السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من اختار القران وزعم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان قارنا باب: ان کا بیان جنہوں نے حجِ قران کو اختیار کیا اور ان کا یہ گمان ہے کہ نبی ﷺ حجِ قران کرنے والے (قارن) تھے۔
حدیث نمبر: 8845
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي قَوْلِ حَفْصَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ تَحْلِلْ مِنْ عُمْرَتِكَ تَعْنِي مِنْ إِحْرَامِكِ الَّذِي ابْتَدَأْتَهُ وَهُمْ بِنِيَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: " لَبَّدْتُ رَأْسِي وَقَلَّدْتُ هَدْيِي، فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَنْحَرَ " يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ حَتَّى يَحِلَّ الْحَاجُّ؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ نَزَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَجْعَلَ مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ إِحرَامَهُ حَجًّا.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے نبی ﷺ سے اس قول کے بارے میں کہ ”آپ اپنے عمرہ سے حلال نہیں ہوئے“ فرماتے ہیں: ان کی مراد یہ ہے کہ آپ اپنے اس احرام سے حلال نہیں ہوئے جو آپ نے شروع کیا تھا، جبکہ وہ (سب) ایک ہی نیت پر تھے، واللہ اعلم۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے سر کی تلبید کی ہے اور اپنی قربانی کو قلادہ ڈالا ہے، لہٰذا میں اس وقت تک حلال نہیں ہوں گا جب تک نحر نہ کر لوں۔“ یعنی، واللہ اعلم، جب تک حاجی حلال نہ ہو جائے، کیونکہ آپ ﷺ پر یہ فیصلہ نازل ہوا تھا کہ جس کے ساتھ قربانی ہو وہ اپنے احرام کو حج بنا لے۔