کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَهْدِيٍّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، أَخْبَرَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا خَيْبَرَ قَالَ: فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلَاةَ الْغَدَاةِ بِغَلَسٍ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ فَأَجْرَى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زِقَاقِ خَيْبَرَ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخَذِهِ حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بِهَذَا اللَّفْظِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَانْحَسَرَ الْإِزَارُ عَنْ فَخِذِ نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَانْكَشَفَ فَخِذَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں جہاد کیا اور ہم نے صبح کی نماز منہ اندھیرے خیبر کے قریب پہنچ کر پڑھی، پھر رسول اللہ ﷺ اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا تھا۔ نبی ﷺ نے خیبر کی گلیوں میں اپنی سواری کو دوڑایا، اس دوران میرا گھٹنا آپ کی ران کو چھو جاتا۔ پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹا دی اور میں آپ کی ران کی سفیدی اور چمک دیکھنے لگا۔ جب آپ ﷺ خیبر کی بستی میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”اللہ اکبر، خیبر تباہ ہوگیا۔“ پھر فرمایا: ”ہم جب کسی قوم کے آنگن میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے۔“ ۔۔۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ آپ ﷺ کی ران سے تہبند اتر گیا تھا۔
اور مسند احمد کی روایت میں ہے کہ آپ کی ران کھل گئی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3238
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 364»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، فَذَكَرَهُ وَفِي قَوْلِهِ انْحَسَرَ أَوِ انْكَشَفَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ بِقَصْدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ يَنْكَشِفُ عَوْرَةُ الْإِنْسَانِ بِرِيحٍ أَوْ سَقْطَةٍ أَوْ غَيْرِهِمَا فَلَا يَكُونُ مَنْسُوبًا إِلَى الْكَشْفِ، وَقَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى: ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ حَسَرَ ضِيقَ الزِّقَاقِ الَّذِي أَجْرَى فِيهِ مَرْكُوبَهُ إِزَارَهُ عَنْ فَخِذِهِ فَيَكُونَ الْفِعْلُ لِجَدَارِ الزِّقَاقِ لَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ غَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ مُوَافِقًا لِمَا مَضَى مِنَ الْأَحَادِيثِ فِي كَوْنِ الْفَخِذِ عَوْرَةً غَيْرَ مُخَالِفٍ لَهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرَوَاهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ وَقَالَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ: وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرِ انْكِشَافَ الْفَخِذِ.
حافظ ثناء اللہ
(ب) صحابی کے قول «انْحَسَرَ» یا «انْكَشَفَ» سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ آپ ﷺ نے قصداً ران خود ننگی نہیں کی تھی۔ سواری پر انسان کی ران یا ستر ہوا کی وجہ سے یا گرنے سے یا کسی اور وجہ سے بھی کھل سکتی ہے، لہٰذا یہ (قصداً) کھولنے کی طرف منسوب نہ ہوگا۔
(ج) پہلی روایت میں صحابی کا قول «ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ» میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ ران کھولنے سے مراد گلیوں کا تنگ ہونا ہو جن میں آپ ﷺ سواری کو دوڑا رہے تھے۔ اس صورت میں یہ عمل گلیوں کی دیواروں کے سبب ہوگا، نہ کہ نبی ﷺ کے عمل سے؛ یہ دیگر روایتوں کے موافق ہوگا جو اسماعیل وغیرہ سے منقول ہیں اور ان احادیث کے بھی موافق ہوگا جن میں ران کو ستر کہا گیا ہے۔
(د) اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا گھٹنا رسول اللہ ﷺ کی ران کو مس کر رہا تھا۔ اس میں ران کے کھولنے کا ذکر نہیں کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3239
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلَاسٍ النُّمَيْرِيِّ الدِّمَشْقِيِّ، ثنا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ كَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ كُلَّ يَوْمٍ فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ثُمَّ رَجَعُوا هِرَابَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " قَالَ ⦗٣٢٦⦘ أَنَسٌ: وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت خیبر پہنچے، جب صبح ہوئی تو آپ سوار ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی سوار ہو کر چل پڑے۔ خیبر والے حسبِ سابق اپنے اوزار اور ٹوکریاں لیے نکلے، جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو چیخ اٹھے: اللہ کی قسم! محمد اور اس کا لشکر چڑھے آرہے ہیں۔ پھر وہ ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خیبر برباد ہوگیا، ہم جب کسی قوم کے آنگن میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ہی سواری پر تھا اور میرا گھٹنا رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ میرا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3240
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قُلْتُ لِلْأَنْصَارِيِّ: مَا مَعْنَى الْخَمِيسِ؟ قَالَ: الْجُنْدُ الْجَيْشُ وَاحْتَجَّ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْفَخِذَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ بِشَيْءٍ يَرْوِيهِ فِي ذَلِكَ فِي قِصَّةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالثَّابِتُ مِنْ قِصَّةِ عُثْمَانَ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) دوسری سند سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) ابو حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے انصاری سے کہا: «الْخَمِيسُ» کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے بتایا: «جَيْشٌ» ”لشکر“۔
(ج) جو لوگ ران کو ستر نہیں مانتے انہوں نے اس موقف میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت سے بھی دلیل لی ہے جو اس بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصے سے متعلق ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3241
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسُلَيمٍ ابْنَيْ يَسَارٍ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لِعُمَرَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ، فَقَالَ: " أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا بِهَذَا اللَّفْظِ " كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ " بِالشَّكِّ وَلَا يُعَارَضُ بِمِثْلِ ذَلِكَ الصَّحِيحُ الصَّرِيحُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِتَخْمِيرِ الْفَخِذِ وَالنَّصِّ عَلَى أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ أَحْفَظُهُمْ، فَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْقِصَّةِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے انھیں اجازت دی اور آپ اسی طرح بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے انھوں نے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انھیں بھی اجازت مرحمت فرما دی۔ وہ بھی اسی طرح آکر باتیں کرتے رہے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے۔ انھوں نے آپ سے اجازت چاہی۔ آپ نے انھیں بھی اجازت دی اور ساتھ ہی آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو درست کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ایک ہی دن کا واقعہ ہے۔ پھر وہ بھی باتیں کرنے لگے۔ جب یہ حضرات چلے گئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ نے کوئی پروا کی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو بھی آپ نہ اٹھے اور نہ ہی اپنے آپ کو درست کیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“
(ب) صحیح مسلم میں «كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ» ”اپنی ران یا اپنی پنڈلیوں کو کھولے ہوئے“ کے الفاظ ہیں۔
نبی ﷺ کے ران چھپانے کے بارے میں اس صریح روایت کے معارض کوئی حدیث نہیں۔ نص یہ ہے کہ ران ستر ہے اور یہ روایت ابن شہاب زہری نے بھی نقل کی ہے اور وہ ان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ انھوں نے اس قصہ میں اس طرح کی بات ذکر نہیں کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3242
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 2402»
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَحَدَّثَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ ⦗٣٢٧⦘ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ قَالَ: فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَأَنَى خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَلَيْسَ فِيهِ ذَكْرُ الْفَخِذِ وَلَا السَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھے ہوئے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پاس آنے کی اجازت دی گئی اور آپ ﷺ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت بیان کی اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی انہیں بھی اجازت دی گئی اور رسول اللہ ﷺ اسی حالت میں رہے انہوں نے بھی اپنی حاجت بیان کی اور چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: ”اپنے کپڑے سمیٹ لو۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابھی اپنی حاجت آپ کے سامنے رکھی اور میں بھی چل پڑا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس طرح فوراً اٹھتے اس وقت نہ دیکھا جب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے جس طرح آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے پر فوراً اٹھ بیٹھے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عثمان رضی اللہ عنہ بہت حیا دار آدمی ہے، مجھے ڈر تھا کہ میں اس کو اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو شاید وہ اپنی حاجت بھی بیان نہ کر پاتے۔“
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ران اور پنڈلی دونوں کا ذکر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3243
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 2402»
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدِينِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَقَدْ وَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ثُمَّ عَلِيٌّ ثُمَّ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَتَجَلَّلَهُ، قَالَتْ: فَتَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يَعْفُورَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبد اللہ بن سعید مدینی سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے کپڑے کو اپنی رانوں میں رکھے ہوئے بیٹھے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت طلب کی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اسی طرح ہوا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے، پھر دیگر لوگ آتے جاتے رہے، آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے کو درست کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور چلے گئے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، عمر رضی اللہ عنہ آئے، علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم آئے لیکن آپ اسی حالت میں بیٹھے رہے تو جب عثمان رضی اللہ عنہ آئے آپ نے فوراً اپنے کپڑے کو درست کر لیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3244
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 6/ 288»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ " فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَالَّذِي هُوَ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِطَرَفِ ثَوْبِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذْ لَا يُظَنُّ بِهِ غَيْرُ ذَلِكَ وَإِنَّمَا يَنْكَشِفُ بِذَلِكَ فِي الْغَالِبِ رُكْبَتَاهُ دُونَ فَخِذَيْهِ، وَرِوَايَةُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَدْ صَرَّحَتْ بِذَلِكَ، أَظُنُّهُ فِي قِصَّةٍ أُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنے کپڑوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھا ہوا تھا۔
ممکن ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے کپڑے کے ایک کنارے کو پکڑا ہوا ہو اور اپنی رانوں کے درمیان دے رکھا ہو تو اس سے کسی اور بات کی طرف گمان جاتا ہی نہیں اور اس طرح تو گھٹنے کھلے ہوئے ہو سکتے ہیں نہ کہ رانیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3245
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ وقد تقدم في الذي قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ حَمَّادٌ: فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ⦗٣٢٨⦘ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، نَحْوًا مِنْ هَذَا غَيْرَ أَنَّ عَاصِمًا زَادَ فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَكَانٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْ كَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَلَمَّا أَقْبَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهُمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَهَذَا لَا حُجَّةَ فِيهِ لِمَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْفَخِذَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ، وَكَشْفُهُمَا قَبْلَ دُخُولِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الرُّكْبَتَيْنِ لَيْسَتَا بِعَوْرَةٍ وَعَلَى ذَلِكَ دَالٌّ أَيْضًا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَلَى أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ وَإِنَّمَا الْعَوْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ مَا بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مروی ہے مگر عاصم نے یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایسی جگہ تھے جہاں پانی تھا تو آپ نے اپنے گھٹنوں تک کپڑا ہٹایا ہوا تھا۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے انہیں ڈھانپ لیا۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جن کا موقف ہے کہ ران ستر نہیں ہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے داخل ہونے سے قبل آپ ﷺ اپنی رانوں کو کھولے ہوئے تھے، بلکہ یہ تو صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح عمرو بن شعیب اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی کہ ناف ستر میں شامل نہیں ہے بلکہ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ مرد کا ستر ان دونوں (ناف اور گھٹنوں) کے درمیان ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3246
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 2492»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلْحَسَنِ: ارْفَعْ قَمِيصَكَ عَنْ بَطْنِكَ حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَرَفَعَ قَمِيصَهُ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ " كَذَا قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ غَيْرُهُ، عَنْ حَمَّادٍ وَعَنِ ابْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ وَهُوَ عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی قمیص کو اپنے پیٹ سے ہٹا تاکہ میں اس طرح بوسہ دوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا“، انہوں نے اپنی قمیص اٹھائی تو انہوں نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3247
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه احمد 2/ 427»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ فَلَقِيَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ بِفُقْمَيْهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى سُرَّتِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملے تو انھوں نے فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میں آپ کا بوسہ لینا چاہتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا“، پھر انھوں نے اپنے دونوں جبڑوں کے ساتھ اپنے منہ کو ان کی ناف پر رکھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3248
درجۂ حدیث محدثین: قوي
تخریج حدیث «قوي۔ وقد مضي قبله طريق سواه»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ قَالَ: " رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَّزِرُ فَوْقَ السُّرَّةِ " ⦗٣٢٩⦘ وَهَذَا لَا يُخَالِفُ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ؛ لِأَنَّ مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ عَقَدَ الْإِزَارَ فَوْقَ السُّرَّةِ لِيَسْتَوْعِبَ جَمِيعَ الْعَوْرَةِ بِالسِّتْرِ. وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) اسلم کے آزاد کردہ غلام ابوالعلاء سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ تہبند ناف کے اوپر باندھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث اس کے مخالف نہیں کہ ناف ستر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے تہبند ناف کے اوپر اس لیے باندھا ہے تاکہ مکمل ستر کو گھیر لے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3249
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن ابي شيبة 4852»