السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، فِي حَدِيثٍ ذَكَرَهُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ حَمَّادٌ: فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ⦗٣٢٨⦘ وَعَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ، يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَبِي مُوسَى، نَحْوًا مِنْ هَذَا غَيْرَ أَنَّ عَاصِمًا زَادَ فِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَكَانٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْ كَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَلَمَّا أَقْبَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهُمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَهَذَا لَا حُجَّةَ فِيهِ لِمَنْ ذَهَبَ إِلَى أَنَّ الْفَخِذَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ، وَكَشْفُهُمَا قَبْلَ دُخُولِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الرُّكْبَتَيْنِ لَيْسَتَا بِعَوْرَةٍ وَعَلَى ذَلِكَ دَالٌّ أَيْضًا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَلَى أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ وَإِنَّمَا الْعَوْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ مَا بَيْنَهُمَا.سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت مروی ہے مگر عاصم نے یہ اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایسی جگہ تھے جہاں پانی تھا تو آپ نے اپنے گھٹنوں تک کپڑا ہٹایا ہوا تھا۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے انہیں ڈھانپ لیا۔
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے دلیل نہیں ہے جن کا موقف ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے داخل ہونے سے قبل آپ ﷺ کا اپنے گھٹنوں کو کھولے ہوئے ہونا تو صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ گھٹنے ستر میں شامل نہیں ہیں۔ اسی طرح عمرو بن شعیب کی حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے اور اس پر کہ ناف ستر میں شامل نہیں ہے بلکہ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ مرد کا ستر ان دونوں (ناف اور گھٹنوں) کے درمیان ہے۔