السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3241
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قُلْتُ لِلْأَنْصَارِيِّ: مَا مَعْنَى الْخَمِيسِ؟ قَالَ: الْجُنْدُ الْجَيْشُ وَاحْتَجَّ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الْفَخِذَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ بِشَيْءٍ يَرْوِيهِ فِي ذَلِكَ فِي قِصَّةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالثَّابِتُ مِنْ قِصَّةِ عُثْمَانَ فِي ذَلِكَ.حافظ ثناء اللہ
(ا) دوسری سند سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث منقول ہے۔
(ب) ابو حاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے انصاری سے کہا: «الْخَمِيسُ» کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے بتایا: «جَيْشٌ» ”لشکر“۔
(ج) جو لوگ ران کو ستر نہیں مانتے انہوں نے اس موقف میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ والی روایت سے بھی دلیل لی ہے جو اس بارے میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قصے سے متعلق ہے۔