السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، فَذَكَرَهُ وَفِي قَوْلِهِ انْحَسَرَ أَوِ انْكَشَفَ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ بِقَصْدِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ يَنْكَشِفُ عَوْرَةُ الْإِنْسَانِ بِرِيحٍ أَوْ سَقْطَةٍ أَوْ غَيْرِهِمَا فَلَا يَكُونُ مَنْسُوبًا إِلَى الْكَشْفِ، وَقَوْلُهُ فِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى: ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ حَسَرَ ضِيقَ الزِّقَاقِ الَّذِي أَجْرَى فِيهِ مَرْكُوبَهُ إِزَارَهُ عَنْ فَخِذِهِ فَيَكُونَ الْفِعْلُ لِجَدَارِ الزِّقَاقِ لَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَكُونَ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ غَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ مُوَافِقًا لِمَا مَضَى مِنَ الْأَحَادِيثِ فِي كَوْنِ الْفَخِذِ عَوْرَةً غَيْرَ مُخَالِفٍ لَهَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَرَوَاهُ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ وَقَالَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ: وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرِ انْكِشَافَ الْفَخِذِ.(ب) صحابی کے قول «انْحَسَرَ» یا «انْكَشَفَ» سے یہ دلیل نکلتی ہے کہ آپ ﷺ نے قصداً ران خود ننگی نہیں کی تھی۔ سواری پر انسان کی ران یا ستر ہوا کی وجہ سے یا گرنے سے یا کسی اور وجہ سے بھی کھل سکتی ہے، لہٰذا یہ (قصداً) کھولنے کی طرف منسوب نہ ہوگا۔
(ج) پہلی روایت میں صحابی کا قول «ثُمَّ حَسَرَ الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ» میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ ران کھولنے سے مراد گلیوں کا تنگ ہونا ہو جن میں آپ ﷺ سواری کو دوڑا رہے تھے۔ اس صورت میں یہ عمل گلیوں کی دیواروں کے سبب ہوگا، نہ کہ نبی ﷺ کے عمل سے؛ یہ دیگر روایتوں کے موافق ہوگا جو اسماعیل وغیرہ سے منقول ہیں اور ان احادیث کے بھی موافق ہوگا جن میں ران کو ستر کہا گیا ہے۔
(د) اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرا گھٹنا رسول اللہ ﷺ کی ران کو مس کر رہا تھا۔ اس میں ران کے کھولنے کا ذکر نہیں کیا۔