حدیث نمبر: 3242
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ، عَنْ عَطَاءٍ، وَسُلَيمٍ ابْنَيْ يَسَارٍ وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لِعُمَرَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ، فَقَالَ: " أَلَا أَسْتَحْيِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَقُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِمَا بِهَذَا اللَّفْظِ " كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ " بِالشَّكِّ وَلَا يُعَارَضُ بِمِثْلِ ذَلِكَ الصَّحِيحُ الصَّرِيحُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِتَخْمِيرِ الْفَخِذِ وَالنَّصِّ عَلَى أَنَّ الْفَخِذَ عَوْرَةٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ شِهَابٍ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ أَحْفَظُهُمْ، فَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْقِصَّةِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور آپ کی رانیں یا پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے انھیں اجازت دی اور آپ اسی طرح بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے انھوں نے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے انھیں بھی اجازت مرحمت فرما دی۔ وہ بھی اسی طرح آکر باتیں کرتے رہے، پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے۔ انھوں نے آپ سے اجازت چاہی۔ آپ نے انھیں بھی اجازت دی اور ساتھ ہی آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو درست کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: میں یہ نہیں کہتا کہ یہ ایک ہی دن کا واقعہ ہے۔ پھر وہ بھی باتیں کرنے لگے۔ جب یہ حضرات چلے گئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو آپ نہ اٹھے اور نہ ہی آپ نے کوئی پروا کی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو بھی آپ نہ اٹھے اور نہ ہی اپنے آپ کو درست کیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو آپ بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں ایسے آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟“
(ب) صحیح مسلم میں «كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ» ”اپنی ران یا اپنی پنڈلیوں کو کھولے ہوئے“ کے الفاظ ہیں۔
نبی ﷺ کے ران چھپانے کے بارے میں اس صریح روایت کے معارض کوئی حدیث نہیں۔ نص یہ ہے کہ ران ستر ہے اور یہ روایت ابن شہاب زہری نے بھی نقل کی ہے اور وہ ان سے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں۔ انھوں نے اس قصہ میں اس طرح کی بات ذکر نہیں کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3242
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 2402»