السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3247
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ سِيرِينَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِلْحَسَنِ: ارْفَعْ قَمِيصَكَ عَنْ بَطْنِكَ حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ فَرَفَعَ قَمِيصَهُ فَقَبَّلَ سُرَّتَهُ " كَذَا قَالَ: عَنْ حَمَّادٍ وَقَالَ غَيْرُهُ، عَنْ حَمَّادٍ وَعَنِ ابْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ وَهُوَ عُمَيْرُ بْنُ إِسْحَاقَ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اپنی قمیص کو اپنے پیٹ سے ہٹا تاکہ میں اس طرح بوسہ دوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا“، انہوں نے اپنی قمیص اٹھائی تو انہوں نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔