أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ مَالِكٌ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، وَغَيْرُهُمْ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ زَيْدٍ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَتْ: فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ بَكْرُ بْنُ مُضَرَ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید قرشی اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھ سکتی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ایک بڑی چادر اور بڑی قمیض میں نماز پڑھے جو پاؤں کے اوپر والے حصے کو ڈھانپ لے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَطَّارُ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ فَقَالَ: " إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: کیا عورت ایک اوڑھنی اور قمیص میں تہبند کے بغیر نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قمیص اتنی کھلی اور کشادہ ہو جو پاؤں کے اوپر والے حصے کو ڈھانپ لے تو پھر پڑھ سکتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبُ الْقَاضِي ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ بِالنِّسَاءِ؟ قَالَ: " شِبْرٌ " قَالَتْ: إِذَا تَخْرُجُ سُوقُهُنَّ أَوْ قَالَتْ: أَقْدَامُهُنَّ " قَالَ: " فَذِرَاعٌ وَلَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص تکبر کے ساتھ اپنے کپڑے کو نیچے لٹکا کر گھسٹ کر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کل قیامت کے روز اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھے گا۔“ سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! عورتوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک بالشت۔“ انہوں نے کہا: تب تو پنڈلیاں نکل جاتی ہیں یا کہا کہ ان کے قدم نکل جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ذراع تک کر لیں، اس سے زیادہ نہ کریں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَيْلُ الْمَرْأَةِ شِبْرٌ " قُلْتُ: إِذًا تَخْرُجُ قَدَمَاهَا قَالَ: " فَذِرَاعٌ لَا يَزِدْنَ عَلَيْهِ " وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ سَتْرِ قَدَمَيْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت کے کپڑے کے دامن کا نچلا حصہ ایک بالشت ہو۔“ میں نے عرض کیا: تب تو اس کے قدم نکل جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک ذراع کر لیں لیکن اس سے تجاوز نہ کریں۔“
اس حدیث میں عورت کے قدموں کے ڈھانپنے کے وجوب پر دلیل ہے۔
اس حدیث میں عورت کے قدموں کے ڈھانپنے کے وجوب پر دلیل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْحَمَّامِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ " لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ. وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز دوپٹہ کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“ اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ اور حسن رحمہ اللہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ، حسن رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ الْخَوْلَانِيِّ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ مَيْمُونَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ مَيْمُونَةَ تُصَلِّي فِي دِرْعٍ سَابِغٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ خولانی سے روایت ہے، وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی گود میں پرورش پاتے تھے اور یتیم تھے، وہ فرماتے ہیں: میں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو بڑی قمیص اور چادر میں نماز پڑھتے دیکھا، اس میں تہبند نہ تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الثِّقَةِ عَنْ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ: وَكَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ قَالَ: وَحَدَّثَنَا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي فِي الدِّرْعِ وَالْخِمَارِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے اسی جیسی روایت منقول ہے، فرماتے ہیں کہ وہ اوڑھنی اور قمیص میں تہبند کے بغیر نماز پڑھتی تھیں۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اوڑھنی اور چادر میں نماز ادا کیا کرتی تھیں۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اوڑھنی اور چادر میں نماز ادا کیا کرتی تھیں۔