السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3249
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ قَالَ: " رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَتَّزِرُ فَوْقَ السُّرَّةِ " ⦗٣٢٩⦘ وَهَذَا لَا يُخَالِفُ قَوْلَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ السُّرَّةَ لَيْسَتْ بِعَوْرَةٍ؛ لِأَنَّ مَنْ زَعَمَ ذَلِكَ عَقَدَ الْإِزَارَ فَوْقَ السُّرَّةِ لِيَسْتَوْعِبَ جَمِيعَ الْعَوْرَةِ بِالسِّتْرِ. وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) اسلم کے آزاد کردہ غلام ابوالعلاء سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ تہبند ناف کے اوپر باندھتے تھے۔
(ب) یہ حدیث اس کے مخالف نہیں کہ ناف ستر نہیں ہے، کیونکہ انہوں نے تہبند ناف کے اوپر اس لیے باندھا ہے تاکہ مکمل ستر کو گھیر لے۔ «وَبِاللہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے“۔