السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ مِلَاسٍ النُّمَيْرِيِّ الدِّمَشْقِيِّ، ثنا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُعَاوِيَةَ، ثنا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: انْتَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ لَيْلًا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ وَرَكِبَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَخَرَجَ أَهْلُ خَيْبَرَ بِمَسَاحِيهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ كَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ كُلَّ يَوْمٍ فَلَمَّا بَصُرُوا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: مُحَمَّدٌ وَاللهِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، ثُمَّ رَجَعُوا هِرَابَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " قَالَ ⦗٣٢٦⦘ أَنَسٌ: وَأَنَا رَدِيفُ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ وَإِنَّ رُكْبَتِي لَتَمَسُّ رُكْبَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدِمَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت خیبر پہنچے، جب صبح ہوئی تو آپ سوار ہوئے اور آپ کے صحابہ بھی سوار ہو کر چل پڑے۔ خیبر والے حسبِ سابق اپنے اوزار اور ٹوکریاں لیے نکلے، جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو چیخ اٹھے: اللہ کی قسم! محمد اور اس کا لشکر چڑھے آرہے ہیں۔ پھر وہ ڈر کے مارے بھاگ کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”خیبر برباد ہوگیا، ہم جب کسی قوم کے آنگن میں اتر پڑیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہوتی ہے۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس دن سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک ہی سواری پر تھا اور میرا گھٹنا رسول اللہ ﷺ کے گھٹنے کو چھو رہا تھا۔ دوسری روایت میں ہے کہ میرا پاؤں رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کو چھو رہا تھا۔