السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ بُرْهَانَ، وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَدِينِيِّ قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ جَالِسًا وَقَدْ وَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنَ لَهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ عُمَرُ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ ثُمَّ عَلِيٌّ ثُمَّ أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْئَتِهِ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ يَسْتَأْذِنُ فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ فَتَجَلَّلَهُ، قَالَتْ: فَتَحَدَّثُوا ثُمَّ خَرَجُوا، قَالَتْ: فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، جَاءَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ وَسَائِرُ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ عَلَى هَيْئَتِكَ فَلَمَّا جَاءَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " أَلَا أَسْتَحْيِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو يَعْفُورَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ.عبد اللہ بن سعید مدینی سے روایت ہے کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک روز رسول اللہ ﷺ اپنے کپڑے کو اپنی رانوں میں رکھے ہوئے بیٹھے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت طلب کی، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اجازت دے دی اور آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اسی طرح ہوا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے، پھر دیگر لوگ آتے جاتے رہے، آپ ﷺ اسی طرح بیٹھے رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے کپڑے کو درست کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے اور چلے گئے۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، عمر رضی اللہ عنہ آئے، علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم آئے لیکن آپ اسی حالت میں بیٹھے رہے تو جب عثمان رضی اللہ عنہ آئے آپ نے فوراً اپنے کپڑے کو درست کر لیا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“