السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَاه أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا تَحَدَّثَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَذَلِكَ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ قَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ ⦗٣٢٧⦘ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لِعَائِشَةَ اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ قَالَ: فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَمْ أَرَكَ فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ وَأَنَى خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ وَأَنَا عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ حَاجَتَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَعْقُوبَ، وَأَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَلَيْسَ فِيهِ ذَكْرُ الْفَخِذِ وَلَا السَّاقِ.(ا) سعید بن عاص فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی اجازت چاہی اور آپ ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھے ہوئے بستر پر لیٹے ہوئے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پاس آنے کی اجازت دی گئی اور آپ ﷺ اسی حالت میں رہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت بیان کی اور چلے گئے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی انہیں بھی اجازت دی گئی اور رسول اللہ ﷺ اسی حالت میں رہے انہوں نے بھی اپنی حاجت بیان کی اور چلے گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا: ”اپنے کپڑے سمیٹ لو۔“ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ابھی اپنی حاجت آپ کے سامنے رکھی اور میں بھی چل پڑا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس طرح فوراً اٹھتے اس وقت نہ دیکھا جب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے جس طرح آپ عثمان رضی اللہ عنہ کے آنے پر فوراً اٹھ بیٹھے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عثمان رضی اللہ عنہ بہت حیا دار آدمی ہے، مجھے ڈر تھا کہ میں اس کو اسی حالت میں اجازت دے دیتا تو شاید وہ اپنی حاجت بھی بیان نہ کر پاتے۔“
(ب) صحیح مسلم کی روایت میں ران اور پنڈلی دونوں کا ذکر نہیں ہے۔