السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن الفخذ ليست بعورة وما قيل في السرة والركبة باب: اس شخص کے قول کا بیان جس کا گمان ہے کہ ران ستر نہیں ہے، اور ناف اور گھٹنے کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْحَسَنِ فَلَقِيَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: أَرِنِي أُقَبِّلُ مِنْكَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ، فَقَالَ بِفُقْمَيْهِ فَوَضَعَ فَاهُ عَلَى سُرَّتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عمیر بن اسحاق بیان کرتے ہیں: میں حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ملے تو انھوں نے فرمایا: ”مجھے دکھاؤ میں آپ کا بوسہ لینا چاہتا ہوں جس طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کو بوسہ لیتے ہوئے دیکھا“، پھر انھوں نے اپنے دونوں جبڑوں کے ساتھ اپنے منہ کو ان کی ناف پر رکھا۔