کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، نا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ كَتِفَ شَاةٍ، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى، نا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَعْنِي هِشَامٌ: وَحَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: يَعْنِي هِشَامٌ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ كَتِفًا - أَوْ لَحْمًا - ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَمَضْمَضْ، وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بکری کے کندھے کا گوشت کھایا پھر کوئی اور گوشت کھایا، نماز پڑھی، نہ کلی کی اور نہ ہی پانی کو چھوا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٢٣٨⦘ الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يَعْجَبُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، وَيُضْرَبُ فِيهِ الْأَمْثَالُ وَيَقُولُ: " إِنَّا نَسْتَحِمُّ بِالْمَاءِ الْمُسَخَّنِ وَنَتَوَضَّأُ بِهِ وَنَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ الْمَطْبُوخِ " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مِمَّا يُصِيبُ النَّاسَ مِمَّا قَدْ مَسَّتِ النَّارُ ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي هَذَا الْبَيْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الْحُجُرَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ عُضْوٌ مِنْ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر مسجد میں تھا۔ لوگ اس شخص پر حیران ہوئے جو کہتا تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، لوگ مثالیں بیان کرنے لگے اور کہنے لگے: ہم گرم پانی سے نہاتے تھے اور وضو کرتے تھے اور ہم مطبوخ تیل استعمال کرتے تھے۔
اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو لوگ استعمال کرتے تھے اور وہ آگ پر پکی ہوتی تھیں۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس گھر میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر کپڑے پہنے۔ مؤذن آیا تو آپ ﷺ نماز کے لیے حجرے میں تشریف لائے جو گھر سے باہر تھا، آپ ﷺ کو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس سے ایک یا دو لقمے کھائے۔ پھر نماز پڑھی اور پانی کو نہیں چھوا۔
اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو لوگ استعمال کرتے تھے اور وہ آگ پر پکی ہوتی تھیں۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے اس گھر میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے، آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر کپڑے پہنے۔ مؤذن آیا تو آپ ﷺ نماز کے لیے حجرے میں تشریف لائے جو گھر سے باہر تھا، آپ ﷺ کو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس سے ایک یا دو لقمے کھائے۔ پھر نماز پڑھی اور پانی کو نہیں چھوا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُكْرَمٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ " أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے بکری کے کندھے کو کاٹ رہے تھے، پھر نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ نے اس کو اور چھری کو پھینک دیا اور جا کر نماز پڑھائی، لیکن وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بھنی ہوئی) بکری کا کندھا کاٹتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نے اس کو کھایا، پھر جب نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور چھری کو پھینک دیا، پھر نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا (بھنا ہوا) کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(د) ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کا پیٹ بھونا تھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا (بھنا ہوا) کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(د) ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کا پیٹ بھونا تھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قِرَاءَةً قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَا: سَمِعْنَا عَائِشَةَ تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَمُرُّ عَلَى الْقِدْرِ فَيَأْخُذُ مِنْهَا الْعَرْقَ فَيَأْكُلُ مِنْهُ، ثُمَّ يَنْطَلِقُ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَا يَتَوَضَّأُ وَلَا يُمَضْمِضُ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ اور عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں: ہم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ ہانڈی کے پاس سے گزرے، اس سے شوربا لے کر کھایا، پھر نماز کے لیے تشریف لے گئے اور نہ وضو کیا، نہ کلی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا قَرَّبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنْبًا مَشْوِيًّا فَأَكَلَهُ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". وَهَكَذَا رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ،.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے نبی ﷺ کو بھنی ہوئی چانپ پیش کی، آپ ﷺ نے کھایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے لیکن وضو نہیں کیا۔
وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ. وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، وَزَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پچھلی روایت کی طرح بیان فرماتی ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حَرْبِ الطَّائِيُّ، ثنا أَبُو جَدِّي عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَكَلَ لَحْمًا فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ". وَفِي الْبَابِ عَنْ: عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَسُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَعَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ الزُّبَيْدِيِّ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَغَيْرِهِمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ⦗٢٤٠⦘ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ وَإِنَّمَا أَرَادَ مَا ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے گوشت کھایا پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
(ب) ابو عبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، نا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَقِيلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ کے ساتھی بنے اور آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ ﷺ نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی ﷺ سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ کے ساتھی بنے اور آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ ﷺ نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی ﷺ سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔
أَمَّا حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو النَّضْرِ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كَانَ آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَرْكَ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری حکم یہ تھا کہ: ”جس چیز کو آگ سے چھوا ہے اس سے وضو نہ کریں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، فَذَكَرَ إِسْنَادَهُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: كَانَ آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهُ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن عیاش نے اسی سند سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا آخری حکم یہ تھا کہ آپ ﷺ نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
وَأَمَّا حَدِيثُ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ الْعِجْلِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي خَالِد، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: " أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، وَكَانَ آخِرَ أَمْرَيْهِ"، وَقَالَ غَيْرُهُ: يُونُسُ، عَن ْ أَبِي خَلْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، قَالَ: " أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس چیز کو کھایا جس کو آگ نے تبدیل کر دیا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا اور یہ آپ ﷺ کا آخری حکم تھا۔
وَأَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ مِنْ ثَوْرِ أَقِطٍ، ثُمَّ رَآهُ أَكَلَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ پنیر کے ٹکڑے (کھانے) سے وضو کر رہے ہیں، پھر انہوں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے بکری کا کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
وَرَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: أَكَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْرَ أَقِطٍ فَتَوَضَّأَ، وَأَكَلَ كَتِفًا وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ فَذَكَرَهُ. وَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى الطَّرِيقَةِ الثَّانِيَةِ، وَزَعَمُوا أَنَّ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ مَعْلُولٌ، ⦗٢٤٢⦘ وَفَتْوَاهُ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْوُضُوءِ مِنْهُ، وَأَنَّ رِوَايَةَ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ اخْتِصَارٌ مِنَ الْحَدِيثِ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: أَخْبَرَكَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، وَابْنَ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ فَقُرِّبَتْ لَهُ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، قَالَ: فَأَكَلَ وَأَكَلْنَا ثُمَّ حَانَتِ الظُّهْرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ رَجَعَ إِلَى فَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ، ثُمَّ حَانَتِ الْعَصْرُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ. هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَيَرَوْنَ أَنَّ آخِرَ أَمْرَيْهِ أُرِيدَ بِهِ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ وَغَيْرُهُ، وَكَذَلِكَ يَرَوْنَ حَدِيثَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثٍ آخَرَ مَا يُوهِمُ أَنْ يَكُونَ النَّاسِخَ إِيجَابَ الْوُضُوءِ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا سہیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تو وضو کیا اور (بھنا ہوا) کندھا کھایا، وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری عورت کے پاس گئے، آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے تو ایک بھونی ہوئی بکری آپ ﷺ کو پیش کی گئی۔ راوی کہتا ہے: آپ ﷺ نے کھائی اور ہم نے بھی کھائی، پھر (نماز) ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی، پھر بچے ہوئے کھانے کی طرف واپس آئے۔ آپ ﷺ نے کھایا؛ پھر عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری عورت کے پاس گئے، آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے تو ایک بھونی ہوئی بکری آپ ﷺ کو پیش کی گئی۔ راوی کہتا ہے: آپ ﷺ نے کھائی اور ہم نے بھی کھائی، پھر (نماز) ظہر کا وقت ہو گیا تو آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر نماز پڑھی، پھر بچے ہوئے کھانے کی طرف واپس آئے۔ آپ ﷺ نے کھایا؛ پھر عصر کی نماز کا وقت ہو گیا تو آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنَ وَقْشٍ وَكَانَ آخِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَكُونُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَهُ: أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ، فَقَالَ لَهُ جُبَيْرَةُ أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دُعِينَا لَهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى وُضُوءٍ، ⦗٢٤٣⦘ فَأَكَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " بَلَى وَلَكِنِ الْأُمُورُ تَحْدُثُ وَهَذَا مِمَّا حَدَثَ ". وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ کا طغری سے روایت ہے اور وہی آخری صحابی ہیں، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آخری نہیں تھے، کیونکہ وہ ان کے بعد بھی زندہ رہے۔ دونوں حضرات ولیمہ کے لیے گئے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ باوضو تھے۔ انہوں نے کھانا کھایا، پھر نکلے تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا۔ سیدنا جبیرہ نے ان سے کہا: کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے کھایا، پھر وضو کیا، میں نے ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن نئے احکام آتے رہتے ہیں اور یہ نیا حکم ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو يَحْيَى عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْهَيْثَمِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي كَانَ يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَهَبَتْ تِلْكَ فِي النَّاسِ، ثُمَّ أَخْبَرَنَا رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنِسَاءٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، فَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ قَدِ اخْتُلِفَ فِيهَا وَاخْتُلِفَ فِي الْأَوَّلِ وَالْآخِرِ مِنْهَا فَلَمْ نقِفْ عَلَى النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ مِنْهَا بِبَيَانٍ بَيِّنٍ نَحْكُمُ بِهِ دُونَ مَا سِوَاهُ فَنَظَرْنَا إِلَى مَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ وَالْأَعْلَامُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذُوا بِإِجْمَاعِهِمْ فِي الرُّخْصَةِ فِيهِ بِالْحَدِيثِ الَّذِي يُرْوَى فِيهِ الرُّخْصَةُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے ہاتھ سے بکری کا کندھا کاٹ رہے تھے، پھر آپ نماز کی طرف بلائے گئے، آپ ﷺ نے اس کو اور چھری کو پھینک دیا، پھر کھڑے ہوئے، نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں فرمایا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر اس چیز سے وضو کرو جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ب) امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ہر اس چیز سے وضو کرو جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، " أَكَلَ لَحْمًا، ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے گوشت کھایا پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدٌ، نا عُبَيْدُ اللهِ ابْنُ عَائِشَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ جَمِيعًا، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، " أَكَلَا خُبْزًا وَلَحْمًا فَصَلَّيَا، وَلَمْ يَتَوَضَّيَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ سَعِيدٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، " أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ مَضْمَضَ وَغَسَلَ يَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابان بن عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے روٹی اور گوشت کھایا، پھر کلی کی اور ہاتھ دھوئے اور اپنے چہرے پر مسح کیا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ طَعِمَ خُبْزًا وَلَحْمًا، فَقِيلَ لَهُ: أَلَا تَتَوَضَّأُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْوُضُوءَ مِمَّا خَرَجَ، وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے روٹی اور گوشت کھایا تو ان سے کہا گیا: آپ وضو کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا: وضو نکلنے والی چیز سے، داخل ہونے والی سے نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ إِذْ جَاءَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مِمَّا تَوَضَّأْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مِنْ ثَوْرٍ أَقِطٍ أَكَلْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا اور وہ وضو کر رہے تھے، اچانک ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آگئے۔ انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا آپ جانتے ہیں میں نے وضو کیوں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں پروا نہیں کرتا تم نے کس لیے وضو کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو روٹی اور گوشت کھاتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے لیکن وضو نہیں کیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " لَا وُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ إِنَّمَا النَّارُ بَرَكَةٌ، وَالنَّارُ لَا تُحِلُّ مِنْ شَيْءٍ وَلَا تُحَرِّمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عطاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہے اس سے وضو نہیں ہے، آگ تو برکت والی ہے اور آگ کسی چیز کو نہ حلال کرتی ہے نہ حرام۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ؟، فَقَالَ: أَنَسٌ: " لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ " وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّيَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عراق سے آئے تو ان کے پاس سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما تشریف لائے۔ انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا جو آگ پر پکا تھا۔ انہوں نے اس سے کھایا، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو سیدنا ابوطلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے انس! یہ کیا عراقیوں جیسا فعل ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش! میں یہ نہ کرتا۔“ سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، نماز ادا کی لیکن وضو نہیں کیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ لَا يَتَوَضَّأُ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو نماز کے لیے وضو کرتا ہے، پھر ایسا کھانا کھاتا ہے جو آگ پر پکا ہو، کیا وہ وضو کرے گا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ وضو نہیں کرتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، ثنا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، " أَنَّهُمَا أَكَلَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَلَمْ يَتَوَضَّيَا ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ اور اسود سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ روٹی اور گوشت کھایا اور وضو نہیں کیا۔