السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 732
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: وَقَفْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ يَتَوَضَّأُ إِذْ جَاءَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَتَدْرِي مِمَّا تَوَضَّأْتُ؟، قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: مِنْ ثَوْرٍ أَقِطٍ أَكَلْتُهُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " مَا أُبَالِي مِمَّا تَوَضَّأْتَ، وَاللهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ خُبْزًا وَلَحْمًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑا تھا اور وہ وضو کر رہے تھے، اچانک ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی آگئے۔ انہوں نے فرمایا: اے ابن عباس! کیا آپ جانتے ہیں میں نے وضو کیوں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے پنیر کے ٹکڑے کھائے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں پروا نہیں کرتا تم نے کس لیے وضو کیا ہے؟ اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کو روٹی اور گوشت کھاتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوئے لیکن وضو نہیں کیا۔