السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، نا أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ عَقِيلٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ خَارِجَةَ بْنَ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ ".(الف) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو اس سے وضو ہے۔“
(ب) عبداللہ بن ابراہیم بن قارظ نے خبر دی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسجد میں وضو کرتے ہوئے فرمایا: میں پنیر کا ٹکڑا کھانے سے وضو کر رہا ہوں، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“
(ج) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وضو کرو ہر اس چیز سے جس کو آگ نے چھوا ہو۔“ ابوعبداللہ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وضو نہیں کیا جائے گا؛ اس لیے کہ وہ ہمارے نزدیک منسوخ ہے۔ کیا تمہیں علم نہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد آپ ﷺ کے ساتھی بنے اور آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے بکری کا کندھا کھایا، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ یہ ہمارے نزدیک واضح دلیل ہے کہ وضو کرنا منسوخ ہے یا آپ ﷺ نے صرف صفائی کے لیے ہاتھ دھونے کا حکم دیا ہے اور نبی ﷺ سے جو بات ثابت ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے وضو نہیں کیا، پھر ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم، ابن عباس رضی اللہ عنہما، عامر بن ربیعہ، ابی بن کعب اور ابی طلحہ رضی اللہ عنہم، ان تمام حضرات نے بھی وضو نہیں کیا۔