أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَمُسَدَّدٌ، وَالْحَجَبِيُّ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا ⦗٢٤٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو كَامِلٍ، قَالُوا: أنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " إِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّأْ، وَإِنْ شِئْتَ فَلَا تَتَوَضَّأْ "، قَالَ: أَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ " قَالَ: أُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: أُصَلِّي فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ؟ قَالَ: " لَا " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ، وَأَخْرَجَهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثِ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَسِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، وَذَهَبَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ إِلَى أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي ثَوْرٍ هَذَا مَجْهُولٌ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: جَعْفَرٌ هَذَا مَجْهُولٌ، كَذَا قَالَ عَلِيٌّ. وَقَدْ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ، قَالَ: جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ جَدُّهُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ. قَالَ سُفْيَانُ، وَزَكَرِيَّا، وَزَائِدَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي ثَوْرِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللُّحُومِ، قَالَ: وَقَالَ أَهْلُ النَّسَبِ: وَلَدَ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ خَالِدًا، وَطَلْحَةَ، وَمَسْلَمَةَ وَهُوَ أَبُو ثَوْرٍ، قَالَ: وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ أَبِي ثَوْرٍ عِكْرِمَةَ بْنِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِيمَا بَلَغَنِي عَنْهُ: حَدِيثُ الثَّوْرِيُّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَشُعْبَةُ أَخْطَأَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي ثَوْرٍ، وَإِنَّمَا هُوَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ هُوَ رَجُلٌ مَشْهُورٌ وَهُوَ مِنْ وَلَدِ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، رَوَى عَنْهُ سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهِبٍ، وَأَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ. قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: وَهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ مِنْ أَجِلَّةِ رُوَاةِ الْحَدِيثِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَمَنْ رَوَى عَنْهُ مِثْلُ هَؤُلَاءِ خَرَجَ مِنْ أَنْ يَكُونَ مَجْهُولًا. وَلِهَذَا أَوْدَعَهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي كِتَابِهِ الصَّحِيحِ، وَقَدْ رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا نُمَضْمِضُ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ وَلَا نُمَضْمِضُ مِنْ أَلْبَانِ الْغَنَمِ، وَكُنَّا نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ وَلَا نَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا میں بکری کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو چاہتا ہے تو کر لے اور اگر تو نہیں چاہتا تو نہ کر۔“ پھر اس نے پوچھا: کیا میں اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اونٹ کے گوشت سے وضو کر۔“ اس نے عرض کیا: کیا میں بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر پوچھا: کیا میں اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
(ب) سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹ کا دودھ پینے کے بعد کلی کرتے تھے اور بکری کا دودھ پی کر کلی نہیں کرتے تھے اور ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرتے تھے اور بکری کا گوشت کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یہ جعفر بن ابی ثور مجہول ہے، لیکن جب اس سے سماک بن حرب، عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء جیسے جلیل القدر راوی روایت کرتے ہیں تو وہ مجہول ہونے سے نکل جاتا ہے، اسی لیے امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔
(ب) سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم اونٹ کا دودھ پینے کے بعد کلی کرتے تھے اور بکری کا دودھ پی کر کلی نہیں کرتے تھے اور ہم اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرتے تھے اور بکری کا گوشت کھانے سے وضو نہیں کرتے تھے۔
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ یہ جعفر بن ابی ثور مجہول ہے، لیکن جب اس سے سماک بن حرب، عثمان بن عبداللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء جیسے جلیل القدر راوی روایت کرتے ہیں تو وہ مجہول ہونے سے نکل جاتا ہے، اسی لیے امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے اپنی صحیح میں درج کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْحُسَيْنِ الْكَرَابِيسِيَّ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَمْدُونَ الْأَعْشَى، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْحَسَنِ الْأَفْطَسَ، يَقُولُ: " رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَسَنِ يَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ " وَقَدْ رَوَى ابْنُ رَوَاحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن حسن افطس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن حسن رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ اونٹ کا گوشت کھا کر وضو کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: " سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ فَأَمَرَ بِهِ، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَبَارِكِ الْإِبِلِ فَنَهَى عَنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ سے اونٹ کے گوشت سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے وضو کا حکم دیا اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ فَرَخَّصَ فِي الْوُضُوءِ مِنْهَا، وَسُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي مَرَابِضِهَا فَرَخَّصَ فِيهَا ". هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الرَّازِيِّ، وَرَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ. وَالْحَجَّاجُ ضَعِيفٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ. قَالَ: وَرَوَاهُ عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ذِي الْغُرَّةِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ وَذُو الْغُرَّةِ لَا يُدْرَى مَنْ هُوَ. وَحَدِيثُ الْأَعْمَشِ أَصَحُّ، قَالَ الشَّيْخُ: وَعُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَبَلَغَنِي عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيَّ أَنَّهُمَا قَالَا: قَدْ صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدِيثُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ: لَمْ نَرَ خِلَافًا بَيْنَ عُلَمَاءِ أَهْلِ الْحَدِيثِ أَنَّ هَذَا الْخَبَرَ صَحِيحٌ مِنْ جِهَةِ النَّقْلِ لِعَدَالَةِ نَاقِلِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِّينَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ الْوُضُوءَ مِمَّا خَرَجَ وَلَيْسَ مِمَّا دَخَلَ، وَإِنَّمَا قَالَا ذَلِكَ فِي تَرْكِ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے بکری کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے وضو کرنے کی رخصت دی اور ان کے باڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے رخصت دی۔
شیخ کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ جو چیز نکلے اس سے وضو ہے (بول و براز وغیرہ) اور جو چیز داخل ہو (کھانا وغیرہ) اس سے وضو نہیں اور دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو (یعنی چیز آگ پر پکی ہو) اس کے (کھانے) سے وضو نہیں ہے۔
حجاج بن ارطاۃ نے یہ روایت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور حجاج ضعیف ہے، اور عبیدہ ضبی نے اسے ذو الغرہ سے نقل کیا ہے اور یہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی، ذو الغرہ کا پتہ نہیں کہ وہ کون ہے اور عبیدہ ضبی قوی نہیں ہے۔ اعمش کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
شیخ کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ جو چیز نکلے اس سے وضو ہے (بول و براز وغیرہ) اور جو چیز داخل ہو (کھانا وغیرہ) اس سے وضو نہیں اور دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ جس چیز کو آگ نے چھوا ہو (یعنی چیز آگ پر پکی ہو) اس کے (کھانے) سے وضو نہیں ہے۔
حجاج بن ارطاۃ نے یہ روایت سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور حجاج ضعیف ہے، اور عبیدہ ضبی نے اسے ذو الغرہ سے نقل کیا ہے اور یہ کچھ حیثیت نہیں رکھتی، ذو الغرہ کا پتہ نہیں کہ وہ کون ہے اور عبیدہ ضبی قوی نہیں ہے۔ اعمش کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْمِهْرَجَانِيُّ بِهَا، أنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جُمَانٍ الرَّازِيُّ بِهَا، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا مُسَدَّدٌ، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ: " أُتِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِقَصْعَةٍ مِنَ الْكَبِدِ وَالسَّنَامِ وَلَحْمِ الْجَزُورِ فَأَكَلَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ "، وَهَذَا مُنْقَطِعٌ وَمَوْقُوفٌ وَرُوِي عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، " يَأْكُلُ مِنْ أَلْوَانِ الطَّعَامِ وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ "، وَبِمِثْلِ هَذَا لَا يُتْرَكُ مَا ثَبَتَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ حَمَلَ بَعْضُ الْفُقَهَاءِ الْوُضُوءَ الْمَذْكُورَ فِي الْخَبَرِ عَلَى الْوُضُوءِ الَّذِي هُوَ النَّظَافَةُ وَنَفْيُ الزُّهُومَةِ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابو جعفر فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جگر اور کوہان یعنی اونٹ کے گوشت کا پیالہ لایا گیا، انہوں نے اسے کھایا پھر وضو نہیں فرمایا۔ یہ روایت منقطع اور موقوف ہے۔
(ب) ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مختلف قسم کے کھانے کھاتے تھے اور وضو نہیں فرماتے تھے۔ اسی طرح ہر اس چیز کو نہیں چھوڑا جائے گا جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ پچھلی روایات جن میں وضو کا ذکر ہے انہیں فقہاء نے لطافت پر محمول کیا ہے۔
(ب) ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مختلف قسم کے کھانے کھاتے تھے اور وضو نہیں فرماتے تھے۔ اسی طرح ہر اس چیز کو نہیں چھوڑا جائے گا جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔ پچھلی روایات جن میں وضو کا ذکر ہے انہیں فقہاء نے لطافت پر محمول کیا ہے۔