السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 735
وَبِإِسْنَادِهِ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يُصِيبُ طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ أَيَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: رَأَيْتُ أَبِي يَفْعَلُ ذَلِكَ ثُمَّ لَا يَتَوَضَّأُ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق سوال کیا جو نماز کے لیے وضو کرتا ہے، پھر ایسا کھانا کھاتا ہے جو آگ پر پکا ہو، کیا وہ وضو کرے گا؟ تو سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اپنے والد کو دیکھا، وہ وضو نہیں کرتے تھے۔