کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بال صفا پاؤڈر (نورہ) کے استعمال کے حوالے سے وارد روایات کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا كَامِلُ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يَتَنَوَّرُ، وَيْلِي عَانَتَهُ بِيَدِهِ ". أَسْنَدَهُ كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، وَأَرْسَلَهُ مَنْ هُوَ أَوْثَقُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ بال صاف فرماتے تو زیر ناف بال ہاتھ سے کاٹتے تھے۔
کامل ابو العلاء نے اسے مسند بیان کیا ہے، جبکہ ان سے زیادہ ثقہ راوی نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔
کامل ابو العلاء نے اسے مسند بیان کیا ہے، جبکہ ان سے زیادہ ثقہ راوی نے اسے مرسل بیان کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَلِي عَانَتَهُ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ زیر ناف بال اپنے ہاتھ سے کاٹتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا ⦗٢٣٦⦘ بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا تَنَوَّرَ وَلِيَ عَانَتَهُ بِيَدِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ بال صاف فرماتے تو زیر ناف بال اپنے ہاتھ سے کاٹتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْو، ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ: مَا أَدْرِي مَنْ أَخْبَرَنِي عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَتَنَوَّرْ " قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَهُوَ أَشْبَهُ الْأَمْرَيْنِ أَنْ لَا يَكُونَ وَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْآخَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَ عَانَتَهُ، فَقَالَ: هَذَا ضَعِيفٌ. قَالَ الشَّيْخُ: الْحَدِيثُ فِيهِ مَا قَدَّمْتُهُ، وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ بَعْضُ رِجَالِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا مجھے قتادہ سے کس نے خبر دی کہ نبی ﷺ نے بال صفا پاؤڈر استعمال نہیں کیا۔ عبداللہ (ابن مبارک) فرماتے ہیں: دونوں باتوں میں سے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ آپ ﷺ نے استعمال نہ کیا ہو۔ (ب) انہوں نے دوسری حدیث ذکر کی کہ نبی ﷺ نے زیر ناف بال خود صاف کیے اور فرمایا: یہ روایت ضعیف ہے۔
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے جس کے بعض راوی معروف نہیں ہیں۔
یہ روایت ایک اور سند سے بھی مروی ہے جس کے بعض راوی معروف نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ دَرَسْتُوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ نَاشِرَةَ الْأَلْهَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيَّ، يَقُولُ: كَانَ ثَوْبَانُ جَارًا لَنَا وَكَانَ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ الْحَمَّامُ وَيَتَنَوَّرُ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن ناشرہ ہانی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن زیاد ہانی سے سنا کہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ ہمارا ہمسایہ تھا، وہ حمام جایا کرتا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: ”نبی اکرم ﷺ بھی حمام میں جایا کرتے تھے اور بال صاف کیا کرتے تھے۔“
رَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ الْجَحْدَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي مِعْشَرٍ " أَنَّ رَجُلًا نَوَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا بَلَغَ الْعَانَةَ كَفَّ الرَّجُلُ، وَنَوَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابومعشر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے بال صاف کیے، جب وہ زیرِ ناف جگہ پر پہنچا تو وہ شخص رک گیا اور رسول اللہ ﷺ نے خود بال صاف کیے۔
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَدْرَمِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَتَنَوَّرْ، وَلَا أَبُو بَكْرٍ، وَلَا عُمَرُ، وَلَا عُثْمَانُ ". وَكِلَاهُمَا مُنْقَطِعٌ، أَخْبَرَنَاهُمَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُئيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اور ابوبکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم نے بال صفا پاؤڈر استعمال نہیں کیا۔
یہ دونوں روایات منقطع ہیں۔
یہ دونوں روایات منقطع ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الرَّفَّاءُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الطَّائِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ الْحَسَنُ بْنُ حَارِثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَنَوَّرُ فَإِذَا كَثُرَ شَعْرُهُ حَلَقَهُ " مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ كَانَ حَفِظَهُ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ قَتَادَةُ أَخَذَهُ أَيْضًا عَنْ أَنَسٍ وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ بال صفا پاؤڈر استعمال نہیں کرتے تھے، جب آپ ﷺ کے بال زیادہ ہو جاتے تو اس کو منڈوا دیتے۔
(ب) اس حدیث میں مسلم ملائی راوی ضعیف ہے، اگر وہ اس کو حفظ کرتا تو احتمال تھا کہ قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔
(ب) اس حدیث میں مسلم ملائی راوی ضعیف ہے، اگر وہ اس کو حفظ کرتا تو احتمال تھا کہ قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ «وَاللّٰهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔
أَخْبَرَنَاهُ يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ " كَانَ يَطَّلِي فَيَأْمُرُنِي أَطَّلِيَهُ حَتَّى إِذَا بَلَغَ سِفْلَتَهُ وَلِيَهَا هُوَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے بدن پر بال صفا لیپ لگایا کرتے تھے، مجھے کہتے تو میں لگاتا، یہاں تک کہ جب شرمگاہ تک پہنچتے تو اس پر خود لگاتے تھے۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ، نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ لَا يَدْخُلُ الْحَمَّامَ، وَكَانَ يَتَنَوَّرُ فِي الْبَيْتِ، وَيَلْبَسُ إِزَارًا، وَيَأْمُرُنِي أَطَّلِيَ مَا ظَهَرَ مِنْهُ ثُمَّ يَأْمُرُنِي أَنْ أُؤَخَّرَ عَنْهُ فَيَلِيَ فَرْجَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بال صاف کرنے کے لیے حمام نہ جاتے بلکہ کمرے ہی میں کر لیا کرتے تھے اور ازار باندھتے تھے اور بدن کے ظاہری اعضاء کی بابت مجھے حکم کرتے کہ میں صاف کروں تو میں لگاتا، پھر حکم دیتے کہ میں پیچھے ہٹوں تو وہ اپنی شرمگاہ پر خود لگاتے۔