السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، نا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فَأَكَلَ مِنْهَا فَدُعِيَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَقَامَ وَطَرَحَ السِّكِّينَ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.(الف) جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بھنی ہوئی) بکری کا کندھا کاٹتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ نے اس کو کھایا، پھر جب نماز کی اقامت کہی گئی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور چھری کو پھینک دیا، پھر نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اپنے والد سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔
(ج) سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا (بھنا ہوا) کندھا کھایا، پھر نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔
(د) ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کا پیٹ بھونا تھا، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے، نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔