السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 734
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَدِمَ مِنَ الْعِرَاقِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا قَدْ مَسَّتْهُ النَّارُ، فَأَكَلُوا مِنْهُ، فَقَامَ أَنَسٌ فَتَوَضَّأَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو طَلْحَةَ، وَأَبِيُّ بْنُ كَعْبٍ: مَا هَذَا يَا أَنَسُ أَعِرَاقِيَّةٌ؟، فَقَالَ: أَنَسٌ: " لَيْتَنِي لَمْ أَفْعَلْ " وَقَامَ أَبُو طَلْحَةَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَصَلَّيَا وَلَمْ يَتَوَضَّيَا ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن زید انصاری سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ عراق سے آئے تو ان کے پاس سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما تشریف لائے۔ انہوں نے ان کی خدمت میں کھانا پیش کیا جو آگ پر پکا تھا۔ انہوں نے اس سے کھایا، پھر سیدنا انس رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وضو کیا تو سیدنا ابوطلحہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما نے کہا: ”اے انس! یہ کیا عراقیوں جیسا فعل ہے؟“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کاش! میں یہ نہ کرتا۔“ سیدنا ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہما کھڑے ہوئے، نماز ادا کی لیکن وضو نہیں کیا۔