السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ أَبِي جُبَيْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنَ وَقْشٍ وَكَانَ آخِرَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا يَكُونُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَإِنَّهُ بَقِيَ بَعْدَهُ: أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ، فَقَالَ لَهُ جُبَيْرَةُ أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دُعِينَا لَهَا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى وُضُوءٍ، ⦗٢٤٣⦘ فَأَكَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " بَلَى وَلَكِنِ الْأُمُورُ تَحْدُثُ وَهَذَا مِمَّا حَدَثَ ". وَإِلَى مِثْلِ هَذَا ذَهَبَ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ فِيمَا.سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ کا طغری سے روایت ہے اور وہی آخری صحابی ہیں، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ آخری نہیں تھے، کیونکہ وہ ان کے بعد بھی زندہ رہے۔ دونوں حضرات ولیمہ کے لیے گئے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ باوضو تھے۔ انہوں نے کھانا کھایا، پھر نکلے تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا۔ سیدنا جبیرہ نے ان سے کہا: کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ نے کھایا، پھر وضو کیا، میں نے ان سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ کا وضو نہیں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن نئے احکام آتے رہتے ہیں اور یہ نیا حکم ہے۔“