السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: ترك الوضوء مما مست النار باب: آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے کھانے سے وضو کے ساقط ہونے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ⦗٢٣٨⦘ الْمَسْجِدِ فَجَعَلَ يَعْجَبُ مِمَّنْ يَزْعُمُ أَنَّ الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ، وَيُضْرَبُ فِيهِ الْأَمْثَالُ وَيَقُولُ: " إِنَّا نَسْتَحِمُّ بِالْمَاءِ الْمُسَخَّنِ وَنَتَوَضَّأُ بِهِ وَنَدَّهِنُ بِالدُّهْنِ الْمَطْبُوخِ " وَذَكَرَ أَشْيَاءَ مِمَّا يُصِيبُ النَّاسَ مِمَّا قَدْ مَسَّتِ النَّارُ ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي هَذَا الْبَيْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَوَضَّأَ، ثُمَّ لَبِسَ ثِيَابَهُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي الْحُجُرَةِ خَارِجًا مِنَ الْبَيْتِ لَقِيَتْهُ هَدِيَّةٌ عُضْوٌ مِنْ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا لُقْمَةً أَوْ لُقْمَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى وَمَا مَسَّ مَاءً ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ شَهِدَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.محمد بن عمرو بن عطاء فرماتے ہیں: میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر مسجد میں تھا۔ وہ اس شخص پر تعجب کرنے لگے جو کہتا تھا کہ آگ پر پکی ہوئی چیز سے وضو ہے، اور مثالیں بیان کرنے لگے اور کہنے لگے: ہم گرم پانی سے نہاتے تھے اور وضو کرتے تھے اور ہم مطبوخ تیل استعمال کرتے تھے۔
اور انہوں نے اور چیزوں کا بھی ذکر کیا جن کو لوگ استعمال کرتے تھے اور وہ آگ پر پکی ہوتی تھیں۔ پھر فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اس گھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس دیکھا ہے، آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر کپڑے پہنے۔ مؤذن آیا تو آپ ﷺ نماز کے لیے حجرے میں تشریف لائے جو گھر سے باہر تھا، آپ ﷺ کو بکری کا گوشت پیش کیا گیا، آپ ﷺ نے اس سے ایک یا دو لقمے کھائے۔ پھر نماز پڑھی اور پانی کو نہیں چھوا۔