کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
أخبرنا أبو الحسين عبيد الله بن محمد القِطِيعي ببغداد من أصل كتابه، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الأَوَيسي، حدثنا سليمان بن بلال، عن عبد الأعلى بن عبد الله بن أبي فَرْوة، عن قَطَن بن وهب، عن عُبيد بن عُمير، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ حين انصرف من أُحدٍ مرَّ على مُصعَب بن عُمير وهو مقتول على طريقه، فوَقَفَ عليه رسول الله ﷺ ودَعَا له، ثم قرأ هذه الآية: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ [الأحزاب: 23]، ثم قال رسول الله ﷺ: "أَشْهَدُ أَنَّ هؤلاءِ شهداءُ عند الله يومَ القيامة، فأتُوهم وزُوروهم، والذي نفسي بيده لا يُسلِّم عليهم أحدُ إلى يوم القيامة إلّا رَدُّوا عليه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2977 - أنا أحسبه موضوعا
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2977 - أنا أحسبه موضوعا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوہ احد سے واپس ہوئے تو آپ کا گزر سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ پر ہوا جو راستے میں شہید پڑے تھے، رسول اللہ ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوئے، ان کے لیے دعا فرمائی اور پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾ ”مومنوں میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہوں نے وہ عہد سچ کر دکھایا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا، پس ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا (شہید ہو گیا) اور کوئی (شہادت کا) انتظار کر رہا ہے، اور انہوں نے (اپنے عہد میں) ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔“ [سورة الأحزاب: 23] پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن شہید ہوں گے، پس تم ان کے پاس آیا کرو اور ان کی زیارت کیا کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، جو بھی قیامت کے دن تک ان پر سلام بھیجے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنَان القَزَّاز، حدثنا أبو عبد الله محمد (2) بن الحارث مولى بني هاشم، حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابن البَيلَماني، عن أبيه، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قرآ: (لقد كانَ لسَبَإٍ فِي مَساكِنهم) [سبأ: 15] (3). هذه نسخةٌ لم نكتبها عاليةً إلّا عن أبي العبَّاس، والشيخان لم يحتجَّا بابن البَيلَماني.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2978 - لم يصح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2978 - لم يصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (سورہ سبا کی آیت 15 کو) یوں تلاوت فرمایا: ﴿لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسَاكِنِهِمْ﴾ [سورة سبأ: 15]
یہ نسخہ ہمیں صرف ابوالعباس سے عالی سند کے ساتھ ملا ہے، اور شیخین نے ابن البیلمانی سے احتجاج نہیں کیا۔
یہ نسخہ ہمیں صرف ابوالعباس سے عالی سند کے ساتھ ملا ہے، اور شیخین نے ابن البیلمانی سے احتجاج نہیں کیا۔
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأَسدي، حدثنا الحُمَيدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة: أنَّ نبي الله ﷺ قرأ: ﴿فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ [سبا: 23] (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2979 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2979 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے (سورہ سبا کی آیت 23 کو لفظ «فزّع» کے ساتھ) تلاوت فرمایا: ﴿فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ﴾ ”جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جائے گی تو وہ کہیں گے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟“ [سورة سبأ: 23]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو نَصْر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد ابن حَبيب الحافظ، حدثنا أحمد بن داود بن المسيَّب الضَّبِّي، حدثنا أبو عاصم، حدثنا إسماعيل بن رافع، عن محمد بن زياد، عن محمد بن كعب القُرَظي، عن أبي هريرة: أنَّ رسول الله ﷺ قرأ: (ولقد أَضَلَّ منكم جُبُلًا) [يس: 62]؛ مخفَّفة (2). رواته كلهم ثِقات غير إسماعيل بن رافع، فإنهما لم يَحتجَّا به.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2980 - في إسناده إسماعيل بن رافع هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2980 - في إسناده إسماعيل بن رافع هالك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سورہ یٰسین کی آیت 62 کو) تخفیف کے ساتھ ﴿وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنْكُمْ جُبُلًا﴾ ”اور بیشک اس (شیطان) نے تم میں سے بہت بڑی مخلوق کو گمراہ کر دیا۔“ تلاوت فرمایا۔ [سورة يس: 62]
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے اسماعیل بن رافع کے، کیونکہ شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا۔
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے اسماعیل بن رافع کے، کیونکہ شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا۔
حدثنا أبو محمد أحمد بن إبراهيم بن هاشم الحافظ إملاءً، حدثنا تَمِيم ابن محمد بن طُمْغاج، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا سفيان بن عُيَينة وأبو أسامة، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبير قال: قال الزُّبير: لما نزلت: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31]- قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما كان بيننا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذنوب؟ فقال: "نعم، يُكرَّرُ عليهم ذلك حتى يُؤدُّوا إلى كلِّ ذي حقٍّ حقَّه"، فقال الزبير: والله إنَّ الأمر لشديدٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2981 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2981 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ ”بیشک آپ کو بھی وفات پانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے حضور جھگڑو گے۔“ [سورة الزمر: 30 - 31] تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو (اختلافات) تھے وہ گناہوں کی تفصیلات سمیت دوبارہ ہمارے سامنے لائے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ سب ان کے سامنے دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کر دیا جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت عن شَهْر، عن أسماء بنت يزيد قالت: سمعت النبي ﷺ يقرأ: ﴿يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ بالنصب (1) ﴿إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾ [الزمر: 53] ولا يُبالي (2).
هذا حديث غريبٌ عالٍ، ولم أَذكر في كتابي هذا عن شهرٍ غيرَ هذا الحديث الواحد (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2982 - غريب
هذا حديث غريبٌ عالٍ، ولم أَذكر في كتابي هذا عن شهرٍ غيرَ هذا الحديث الواحد (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2982 - غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ﴾ ”اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو جاؤ۔“ (یہاں آپ ﷺ نے «رحمة الله» کو نصب کے ساتھ پڑھا) اور پھر تلاوت فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾ ”بیشک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے“ اور وہ (کسی کی) پروا نہیں کرتا۔ [سورة الزمر: 53]
یہ حدیث غریب اور عالی ہے، اور میں نے اپنی اس کتاب میں شہر بن حوشب سے اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ذکر نہیں کی۔
یہ حدیث غریب اور عالی ہے، اور میں نے اپنی اس کتاب میں شہر بن حوشب سے اس ایک حدیث کے علاوہ کوئی اور روایت ذکر نہیں کی۔
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن يزيد، عن عبد الله بن مسعود قال: أقرأني رسول الله ﷺ: (إنِّي أنا الرَّزاقُ ذُو القوَّةِ المَتِينُ) (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2983 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2983 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس طرح پڑھایا ہے: ﴿إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ﴾ ”بیشک میں ہی رزق دینے والا، بڑی قوت والا اور نہایت مضبوط ہوں۔“ [سورة الذاريات: 58]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبيه، عن زاذانَ، عن علي: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [الطور: 21] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2984 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2984 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ ”جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی، ہم ان کی اولاد کو بھی (جنت کے درجات میں) ان کے ساتھ ملا دیں گے۔“ [سورة الطور: 21]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا زكريا بن عَدِيٍّ، حدثنا وَكيع، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن الأسود بن يزيد، عن عبد الله قال: قرأتُ على رسول الله ﷺ: (فَهَلْ مِن مُذَّكِرٍ) بالذَّال، فقال النبي ﷺ: ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ [القمر: 15] بالدَّال (2).
هذا حديث صحيح قد اتَّفقا على إخراجه من حديث شُعْبة عن أبي إسحاق مختصرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2985 - أخرجاه مختصرا
هذا حديث صحيح قد اتَّفقا على إخراجه من حديث شُعْبة عن أبي إسحاق مختصرًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2985 - أخرجاه مختصرا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے لفظ «مُذَّكِرٍ» (ذال کے ساتھ) پڑھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے دال کے ساتھ تلاوت فرما کر اصلاح کی: ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ ”تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟“ [سورة القمر: 15]
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اسے امام شعبہ کی روایت سے مختصر طور پر اپنی کتب میں نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اسے امام شعبہ کی روایت سے مختصر طور پر اپنی کتب میں نقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا حسين بن محمد المَرُّوذي، حدثنا أبو عبد الرحمن الأَرْطَباني (2) ابنُ عمِّ عبد الله بن عَوْن، عن عاصم الجَحدَري، عن أبي بَكْرة: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (متَّكِئِينَ على رَفارِفَ خُضْرٍ وعَبَاقِرِيَّ (3) حِسَانٍ) [الرحمن: 76] (4). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2986 - منقطع وعاصم لم يدرك أبا بكرة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2986 - منقطع وعاصم لم يدرك أبا بكرة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آیتِ کریمہ کو ان الفاظ کے ساتھ تلاوت فرمایا: «مُتَّكِئِينَ عَلَى رَفَارِفَ خُضْرٍ وَعَبَاقِرِيَّ حِسَانٍ» ”وہ سبز قالینوں اور نہایت عمدہ و خوبصورت بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔“ [سورة الرحمن: 76]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو النَّضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سلَّام بن سليمان المَدائني، حدثنا أبو عمرو بن العلاء، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (فشاربونَ شَرْبَ الهِيمِ) [الواقعة: 55] (5).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2987 - سلام ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2987 - سلام ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿فَشَارِبُونَ شُرْبَ الْهِيمِ﴾ ”پھر تم پیاسے اونٹوں کی طرح پینے والے ہو گے۔“ [سورة الواقعة: 55]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا سعيد بن سَلَمة، حدثني صالح بن كَيْسان، عن عيسى بن مسعود بن الحَكَم الزُّرَقي، عن جَدَّته حَبِيبة بنت شَرِيق: أنها كانت مع أُمَّها ابنةِ العَجماء في أيام الحج بمِنًى، قال: فجاءهم بُدَيلُ بن وَرْقاء على راحلة رسول الله ﷺ برَحْلِه فنادى: إنَّ رسول الله ﷺ يقول: "مَن كان صائمًا فليفطِرْ، فإنهنَّ أيامُ أكلٍ وشُرْب" (1). هذا الحديث ليس من جُملة هذا الكتاب.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ حبیبہ بنت شریق رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ایامِ حج میں منیٰ کے مقام پر موجود تھیں، وہ کہتی ہیں کہ بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی سواری پر تشریف لائے اور آواز بلند کر کے کہا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”جو شخص روزے سے ہو وہ افطار کر لے، کیونکہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔“
یہ حدیث اس کتاب کے مجموعے میں سے نہیں ہے۔
یہ حدیث اس کتاب کے مجموعے میں سے نہیں ہے۔
أخبرنا عمر بن محمد بن صفوان الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيدٍ، حدثنا مروان بن معاوية عن حماد، عن (2) بُدَيل بن مَيسَرة، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقرأ: (فرُوحُ ورَيْحانٌ) [الواقعة: 89] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت مبارکہ کی تلاوت اس طرح فرماتے تھے: ﴿فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ﴾ ”تو (اس کے لیے) راحت ہے اور خوشبو ہے۔“ [سورة الواقعة: 89]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، حدثنا أبو بكر محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجَّاج بن محمد قال: قال ابن جُرَيج: عن أبي الزُّبير، عن ابن عمر: أنَّ رسول الله ﷺ قرأ: (فطَلِّقُوهُنَّ في قُبُل عِدَّتِهِنَّ) [الطلاق: 1] (1). قد أخرج مسلم هذا الحديث بطوله عن ابن جُريج عن أبي الزُّبير: أنه سمع عبدَ الرحمن بن أَيمن يسأل عبدَ الله بن عمر في رجل طلَّق امرأته وهي حائض، وأظنُّه ذكر هذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2990 - أخرج مسلم الحديث بأطول منه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2990 - أخرج مسلم الحديث بأطول منه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ﴾ ”تو تم انہیں ان کی عدت کے آغاز میں طلاق دو۔“ [سورة الطلاق: 1]
امام مسلم نے اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہی لفظ ذکر فرمایا ہے۔
امام مسلم نے اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ ابن جریج کے طریق سے روایت کیا ہے جس میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی، اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے یہی لفظ ذکر فرمایا ہے۔