المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
زِيَارَةُ قُبُورِ الشُّهَدَاءِ وَرَدُّ السَّلَامِ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ باب: شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
حدیث نمبر: 3026
أخبرنا عمر بن محمد بن صفوان الجُمَحي بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو عُبيدٍ، حدثنا مروان بن معاوية عن حماد، عن (2) بُدَيل بن مَيسَرة، عن عبد الله بن شَقِيق، عن عائشة قالت: كان رسول الله ﷺ يقرأ: (فرُوحُ ورَيْحانٌ) [الواقعة: 89] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس آیت مبارکہ کی تلاوت اس طرح فرماتے تھے: ﴿فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ﴾ ”تو (اس کے لیے) راحت ہے اور خوشبو ہے۔“ [سورة الواقعة: 89]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) لفظ "عن" تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن. وحماد هذا: هو ابن زيد.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "عن" تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔ اور یہاں حماد سے مراد "ابن زید" ہیں۔
(3) إسناده صحيح. أبو عبيد: هو القاسم بن سلام.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں ابو عبید سے مراد "القاسم بن سلام" ہیں۔
وقد سلف برقم (2961) من طريق هارون بن موسى عن بديل بن ميسرة.
تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (2961) پر ہارون بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے جو بدیل بن میسرہ سے روایت کرتے ہیں۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ "عن" تحریف ہو کر "بن" ہو گیا ہے۔ اور یہاں حماد سے مراد "ابن زید" ہیں۔
(3) إسناده صحيح. أبو عبيد: هو القاسم بن سلام.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں ابو عبید سے مراد "القاسم بن سلام" ہیں۔
وقد سلف برقم (2961) من طريق هارون بن موسى عن بديل بن ميسرة.
تفصیلِ روایت: یہ روایت نمبر (2961) پر ہارون بن موسیٰ کے طریق سے گزر چکی ہے جو بدیل بن میسرہ سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3026 سے ماخوذ ہے۔