أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مسلم البَطِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: لما أُخرِجَ النبيُّ ﷺ من مكة، قال أبو بكر: أخرَجوا نبيَّهم، إنا لله وإنا إليه راجعون، لَيَهلِكُنَّ، فأنزل الله: (أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقاتِلُونَ بأَنَّهُم ظُلِمُوا وإِنَّ اللهَ على نَصْرِهِم لَقَدِيرُ) [الحج: 39]، قال: وهي أول آيةٍ نَزَلَت في القتال (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد حدَّث به غيرُ أَبي حُذَيفة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2968 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد حدَّث به غيرُ أَبي حُذَيفة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2968 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کو مکہ سے نکالا گیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہوں نے اپنے نبی کو نکال دیا، إنا لله وإنا إليه راجعون، بیشک وہ ضرور ہلاک ہو جائیں گے،“ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ﴾ ”اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر یقیناً قادر ہے۔“ [سورة الحج: 39] ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ قتال (جہاد) کے بارے میں نازل ہونے والی سب سے پہلی آیت ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے ابو حذیفہ کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی بیان کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، اسے ابو حذیفہ کے علاوہ دیگر راویوں نے بھی بیان کیا ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن يزيد العَدْل، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن يحيى القُطَعي، حدثنا يحيى بن راشد عن خالد الحذَّاء، عن عبد الله ابن عُبيد بن عُمير اللَّيثي، عن أبيه قال: قلت لعائشة: يا أمَّ المؤمنين، كيف كان رسول الله ﷺ يقرأ هذا الحرف: (والذين يَأْتُون ما أَتَوْا) [المؤمنون: 60]؟ قالت: أشهدُ لسمعت رسول الله يقرؤُها: (يَأْتُون) (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عبید بن عمیر لیثی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: یا ام المؤمنین! رسول اللہ ﷺ اس حرف کو کیسے پڑھتے تھے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا أَتَوْا﴾؟ انہوں نے فرمایا: ”میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے «يأتون» ( «ياء» کے ساتھ) ہی پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“ [سورة المؤمنون: 60]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم ابن أبي غَرَزَة، حدَّثنا أبو غسَّان، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ كان يقرأ: (مُستكبِرِينَ به سامِرًا تُهجِّرونَ) [المؤمنون: 67]، قال: كان المشركون يَتهجَّرون برسول الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ آیت یوں تلاوت فرماتے تھے: ﴿مُسْتَكْبِرِينَ بِهِ سَامِرًا تُهْجِرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 67] انہوں نے وضاحت کی کہ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے بارے میں نازیبا اور ہذیانی گفتگو (تہجر) کیا کرتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل ابن محمد الشَّعْراني، حدثنا نُعيم بن حمّاد وأحمد بن جَميل المروَزي وعَبْدة بن سليمان الطَّرَسوسي قالوا: حدثنا عبد الله بن المبارَك، أخبرنا سعيد بن يزيد أبو شُجَاع، عن أبي السَّمْح درَّاج بن سِمْعان، عن أبي الهيثم سليمان بن عمرو بن عبد العُتْواري، عن أبي سعيد، عن رسول الله ﷺ: ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ [المؤمنون: 104] قال: "تَشْوِيهِ النارُ فتَقلِصُ شَفَتُه العُليا حتى تَبْلُغَ وَسَطَ رأسِه، وتَسترخي شفتُه السُّفلى حتى تَبلُغَ سُرَّتَه" (2).
هذا حديث صحيح من إسناد المِصريين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح من إسناد المِصريين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ﴾ ”اور وہ اس (دوزخ) میں بدشکل بنے ہوں گے“ [سورة المؤمنون: 104] کے بارے میں فرمایا: ”آگ انہیں اس طرح جھلسا دے گی کہ ان کا اوپر والا ہونٹ سکڑ کر سر کے درمیان تک پہنچ جائے گا اور نیچے والا ہونٹ لٹک کر ناف تک آ جائے گا۔“
یہ مصری راویوں کی سند کے ساتھ صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ مصری راویوں کی سند کے ساتھ صحیح حدیث ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سمعت أبا العبَاس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العبَّاس بن محمد الدُّورِي يقول: سألتُ يحيى بن مَعِين عن أحاديث درَّاج عن أبي الهيثم عن أبي سعيد، فقال: هذا إسناد صحيح (3).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد الدوری کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین سے دراج عن ابی الہیثم عن ابی سعید کی احادیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ سند صحیح ہے۔“
حدثنا أبو بكر محمد بن داود بن سليمان الزاهد، حدثنا علي بن الحسين ابن الجُنَيد المالكي بالرَّي، حدثنا سُوَيد بن سعيد الأنباري، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن خُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَيٍّ، عن عبد الرحمن بن غَنْم قال: سألتُ معاذًا عن قول الله: ﴿مَا كَانَ يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَّخِذَ﴾ أو (نُتَّخَذَ)؟ قال: سمعت النبي ﷺ يقرأ: ﴿أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِكَ﴾ [الفرقان: 18]؛ بنَصْب النون (1).
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا کہ یہ لفظ «نَتَّخِذَ» ( «نون» کے زبر کے ساتھ) ہے یا «نُتَّخَذَ» ؟ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو اسے «نون» کے زبر کے ساتھ ﴿أَنْ نَتَّخِذَ مِنْ دُونِكَ﴾ ”کہ ہم آپ کے سوا (کسی کو اپنا ولی) بنائیں“ تلاوت کرتے ہوئے سنا ہے۔“ [سورة الفرقان: 18]
وحدثنا أبو بكر بن داود (2)، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن خُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَي، عن عبد الرحمن بن غَنْم قال: سألتُ معاذَ بن جبل عن قول الله ﷿: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ أو (غَلَبَت)؟ فقال: أقرأَني رسول الله ﷺ: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ (3). لم نكتب الحديثين إلّا بهذا الإسناد، إلَّا أنَّ محمد بن سعيد الشامي ليس من شرط الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2973 - محمد بن سعيد هو المصلوب هالك وبكر بن خنيس متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2973 - محمد بن سعيد هو المصلوب هالك وبكر بن خنيس متروك
حافظ طلحہ بابر
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ «غُلِبَت» ہے یا «غَلَبَت»؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ﴿الم غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ ”رومی مغلوب ہو گئے۔“ ہی پڑھایا ہے۔ [سورة الروم: 1 - 2]
ہم نے یہ دونوں حدیثیں صرف اسی سند سے لکھی ہیں، مگر محمد بن سعید شامی اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔
ہم نے یہ دونوں حدیثیں صرف اسی سند سے لکھی ہیں، مگر محمد بن سعید شامی اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن فُضَيل بن مرزوق، عن عطيّة العَوْفي قال: قرأتُ على ابن عمر: ﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً﴾ [الروم: 54]، فقال ابن عمر: (اللهُ الذي خَلَقَكم من ضُعْفٍ ثم جَعَلَ من بعدِ ضُعْفٍ قوةً ثم جَعَلَ من بعدِ قوةٍ ضُعْفًا وشَيْبةً)، ثم قال ابن عمر قرأتُ على رسول الله كما قرأتَ علىَّ، فأخَذَ علىَّ كما أخذتُ عليك (1). تفرَّد به عطيّةُ العَوْفي ولم يَحتجَّا به، وقد احتَجَّ مسلم بالفُضَيل بن مرزوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2974 - لم يحتجا بعطية
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2974 - لم يحتجا بعطية
حافظ طلحہ بابر
عطیہ عوفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے سامنے یہ آیت تلاوت کی: ﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً﴾ [سورة الروم: 54] (جس میں میں نے لفظ «ضعف» کو «ضاد» کے فتحہ یعنی زبر کے ساتھ پڑھا)، تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے ( «ضاد» کے ضمہ یعنی پیش کے ساتھ) «ضُعف» پڑھا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اسے اسی طرح پڑھا تھا جیسے تم نے میرے سامنے پڑھا، تو آپ ﷺ نے مجھے اسی طرح درست فرمایا جیسے میں نے تمہیں درست کیا ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے میں عطیہ عوفی منفرد ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے فضیل بن مرزوق سے احتجاج کیا ہے۔
اس حدیث کو روایت کرنے میں عطیہ عوفی منفرد ہیں اور شیخین نے ان سے احتجاج نہیں کیا، البتہ امام مسلم نے فضیل بن مرزوق سے احتجاج کیا ہے۔
أخبرني الحسين بن علي التَّميمي، حدثنا علي بن سعيد بن عبد الله العَسكَري، حدثنا الحسن بن عَرَفة العَبْدي، حدثنا عمَّار بن محمد، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ قرأ: (فلا تَعلَمُ نفسٌ ما أُخفِيَ لهم من قُرَّاتِ (2) أَعيُنٍ) [السجدة: 17] (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2975 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2975 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (سورہ سجدہ کی آیت 17 کو لفظ «قرات» کے ساتھ جمع کے صیغے میں) یوں تلاوت فرمایا: ﴿فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّاتِ أَعْيُنٍ﴾ ”پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ [سورة السجدة: 17]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو الفضل محمد بن إبراهيم المزكِّي، حدثنا أبو بكر محمد ابن إسماعيل، حدثنا محمد بن مصفَّى الحمصي، حدثنا بقيَّةُ، حدثني عبَّاد بن إسحاق، حدثنا عبد الله بن واقد، عن ابن عمر، عن رسول الله ﷺ: أنه قرأ: ﴿وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ﴾ [لقمان: 27]؛ رفعٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2976 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2976 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (سورہ لقمان کی آیت 27 میں لفظ «البحر» کو) رفع یعنی پیش کے ساتھ ﴿وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ﴾ تلاوت فرمایا۔ [سورة لقمان: 27]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔