حدثني أحمد بن منصور الحافظ بالطابَرَانِ، حدثنا الحسن بن علي بن نَصْر، حدثنا أبو حاتم سهل بن محمد، حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي الحَوَاجب الكوفي قال: كنتُ آخِذًا بيد الأعمشِ ويوسفُ السَّمْتي على الجانب الآخر، فسأله عن قوله ﷿: ﴿وَالرُّجْزَ﴾ [المدثر: 5]، فقال: أخذتَ في ذا؟ ثم قال: قرأتُ القرآن على يحيى بن وَثَّاب ثلاثين مرة، وقرأ يحيى على عَلقَمة، وقرأ علقمةُ على عبد الله، وقرأ عبدُ الله على رسول الله ﷺ: (والرِّجْزَ فاهجُرْ)، بكسر الراء (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2991 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2991 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیتِ کریمہ ﴿وَالرِّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ ”اور گندگی سے دور رہو“ میں لفظ «الرِّجْزَ» کو «راء» کے زیر کے ساتھ تلاوت فرمایا۔ [سورة المدثر: 5]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرَناه مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا أبو الأحوَص محمد بن الهيثم، حدثنا محمد بن كَثير المِصِّيصي، حدثنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة ابن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله ﷺ يقرأ: ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾؛ برفع الراء، وقال: "هي الأوثانُ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس آیتِ مبارکہ کو «راء» کے پیش (ضمہ) کے ساتھ تلاوت فرماتے ہوئے سنا: ﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس سے مراد بت ہیں۔“ [سورة المدثر: 5]
حدثنا أبو بكر محمد بن داود الزاهد وأبو سعيد أحمد بن يعقوب الثقفي قالا: حدثنا علي بن الحسين بن الجُنَيد، حدثنا أحمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، أخبرني الزُّهْري، عن أبي سَلَمة، عن جابر قال: سمعت رسول الله ﷺ وهو يحدِّث عن فَتْرة الوحي، قال: "فقلت: زَمِّلوني، فدَثَّروني، فأنزل الله تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَأَنْذِرْ (2) وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ (3) وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ (4) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾، قال: هي الأوثان (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وحی کے تعطل کے زمانے کے بارے میں تذکرہ فرما رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے (گھر والوں سے) کہا: مجھے کپڑا اڑھا دو، مجھے کپڑا اڑھا دو، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد بت ہیں۔ [سورة المدثر: 1-5]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي، حدثنا عفَان بن مُسلم الصَّفّار، حدثنا سفيان بن عُيينة الهِلالي، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن زِرِّ بن حُبيش، عن عبد الله بن مسعود قال: كنا مع النبي ﷺ في غارٍ فنزلت: ﴿وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا﴾، فأخذتُها من فيهِ وإِنَّ فاهُ لرَطْبٌ بها، فلا أدري بأيِّها خَتَمَ: ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ [المرسلات: 50] أو ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾ [المرسلات: 48] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2994 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2994 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک غار میں تھے جب سورت «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» نازل ہوئی، میں نے اسے براہِ راست آپ ﷺ کے دہنِ مبارک سے حاصل کیا جبکہ آپ ﷺ کی زبانِ مبارک ابھی اس کی تلاوت سے تر تھی، مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے سورت کا اختتام کس آیت پر فرمایا: ﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ﴾ ”اب اس کے بعد وہ اور کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟“ [سورة المرسلات: 50] یا ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ارْكَعُوا لَا يَرْكَعُونَ﴾ ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ (اللہ کے آگے) جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے۔“ [سورة المرسلات: 48] پر۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ثابت بن يزيد، أبو زيد، حدثنا هلال بن خبَّاب، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، عن النبي ﷺ قال: "تُحشَرون عُراةً حُفاةً غُرْلًا" فقالت زوجته: أينظُرُ بعضُنا إلى عَوْرة بعض؟ فقال: "يا فلانةُ ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ [عبس:37] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2995 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2995 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم لوگ (قیامت کے دن) برہنہ بدن، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے محشور کیے جاؤ گے۔“ تو آپ ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے عرض کیا: کیا ہم ایک دوسرے کے ستر (عضاۓ مخصوصہ) کو دیکھیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے فلاں! ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ ”اس دن ہر شخص کو ایسی فکر لاحق ہوگی جو اسے دوسروں سے بے نیاز کر دے گی۔“ [سورة عبس: 37]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزَّاز، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا المُعافَى بن عِمران، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي فَرُوة، عن يحيى بن عُرْوة بن الزُّبير، عن عُروة، عن عائشة، عن النبي ﷺ: أنه كان يقرأ: (وما هو على الغَيبِ بظَنِينٍ) [التكوير: 24]، بالظاء (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2996 - إسحاق متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2996 - إسحاق متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اس آیت کو «بِظَنِينٍ» ( «ظاء» کے ساتھ) پڑھا کرتے تھے: ﴿وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِظَنِينٍ﴾ ”اور وہ (نبی) غیب کی باتوں کو بتانے میں بخیل نہیں ہیں۔“ [سورة التكوير: 24]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الجَرَّاحي بمَرْو، حدثنا يحيى بن ساسَوَيهِ الذُّهْلي، حدثنا سُوَيد بن نَصْر، حدثنا حاتم بن إسماعيل وخارجة بن مُصعَب، عن عبد الرحمن بن حَرمَلة، عن سعيد بن المسيّب عن أبي هريرة قال: كان رسول الله ﷺ يقرأ: فَسَوَّاكَ فَعَدَّلَكَ) (الانفطار: 7)، مُثَقَّل (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2997 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حدثنا الحاكم أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ إملاءً في شهر ربيع سنة تسع وتسعين وثلاث مئة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2997 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لفظ «فَعَدَّلَكَ» کو تشدید کے ساتھ (ثقیل) پڑھتے تھے: ﴿فَسَوَّاكَ فَعَدَّلَكَ﴾ ”جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تیرے اعضاء کو درست کیا اور تجھے اعتدال پر رکھا۔“ [سورة الانفطار: 7]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا إسحاق ابن أحمد بن مِهران حدثنا إسحاق بن سليمان الرازي، حدثنا أبو جعفر الرازي، عن الرَّبيع بن أنس، عن أبي العاليَةِ، عن أم سَلَمة قالت: سمعت رسول الله ﷺ يقرأ: (بَلَى قد جاءَتْكِ آياتي فكذَّبتِ بها واستَكبَرتِ وكنتِ من الكافرينَ) [الزمر:59] (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح (مونث کے صیغے کے ساتھ) تلاوت کرتے ہوئے سنا: ﴿بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ﴾ ”ہاں! کیوں نہیں، تیرے پاس میری آیات آئی تھیں، مگر تو نے انہیں جھٹلایا، تکبر کیا اور تو کافروں میں سے ہو گئی۔“ [سورة الزمر: 59]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا هارون بن المغيرة، حدثنا عَنبَسة، عن حَبيب بن أبي عَمْرة، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس أنه قال: هل تدرون ما سَعَةُ جهنَّم؟ قال: قلت: لا أدري، قال: أجل والله ما تدري إنَّ بين سَعَةِ شَحْمةِ أُذُنهم وعاتِقِه مَسِيرةَ سبعين خَريفًا، تجري فيها أوديةُ القَيْح والدم، فقلت: أنهارًا؟ قال: لا، بل أوديةً. ثم قال ابن عبَّاس: حدَّثتني عائشةُ أم المؤمنين: أنها سألت رسولَ الله ﷺ عن هذه الآية: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [الزمر: 67]، قال: "يقول: أنا الجبَّارُ، أنا أنا، ومَجَّدَ الربُّ نفسَه"، قال: فرَجَفَ برسول الله ﷺ مِنبرُه حتى قلنا: لَيَخِرَّنَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2999 - صحيح .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2999 - صحيح .
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ جہنم کی وسعت کتنی ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم نہیں جانتے کہ (جہنمیوں کے) کان کی لو اور ان کے کندھے کے درمیان ستر سال کی مسافت کا فاصلہ ہے، جس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہتی ہوں گی، میں نے پوچھا: کیا وہ نہریں ہوں گی؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ وادیاں ہوں گی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا: ﴿وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ﴾ [سورة الزمر: 67]، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: «أَنَا الْجَبَّارُ، أَنَا أَنَا» ”میں جبار ہوں، میں ہی (سب کچھ) ہوں، میں ہی (سب کچھ) ہوں“ اور رب تعالیٰ نے اپنی عظمت و بڑائی بیان فرمائی۔“ راوی کہتے ہیں کہ (یہ فرماتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کا منبر اس قدر لرزنے لگا کہ ہم نے (خوف سے) سوچا کہ کہیں آپ ﷺ گر نہ جائیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔