المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
زِيَارَةُ قُبُورِ الشُّهَدَاءِ وَرَدُّ السَّلَامِ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ باب: شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
حدیث نمبر: 3025
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا هشام بن علي السِّيرافي، حدثنا عبد الله بن رَجَاء، حدثنا سعيد بن سَلَمة، حدثني صالح بن كَيْسان، عن عيسى بن مسعود بن الحَكَم الزُّرَقي، عن جَدَّته حَبِيبة بنت شَرِيق: أنها كانت مع أُمَّها ابنةِ العَجماء في أيام الحج بمِنًى، قال: فجاءهم بُدَيلُ بن وَرْقاء على راحلة رسول الله ﷺ برَحْلِه فنادى: إنَّ رسول الله ﷺ يقول: "مَن كان صائمًا فليفطِرْ، فإنهنَّ أيامُ أكلٍ وشُرْب" (1). هذا الحديث ليس من جُملة هذا الكتاب.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ حبیبہ بنت شریق رضی اللہ عنہا اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ایامِ حج میں منیٰ کے مقام پر موجود تھیں، وہ کہتی ہیں کہ بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی سواری پر تشریف لائے اور آواز بلند کر کے کہا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: ”جو شخص روزے سے ہو وہ افطار کر لے، کیونکہ یہ دن کھانے پینے کے ہیں۔“
یہ حدیث اس کتاب کے مجموعے میں سے نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن عبد الله بن رجاء: هو الغُدَاني.
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند "حسن" ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں عبد اللہ بن رجاء سے مراد "الغدانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 15) عن أبي سعيد مولى بني هشام، عن سعيد بن سلمة، بهذا الإسناد - إلّا أنه قال فيه عن حبيبة بنت شريق: أنها كانت مع أبيها. وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك. وانظر ما سلف برقم (1604).
حوالہ / مصدر: اسے احمد 39/ (24009/ 15) نے ابو سعید مولیٰ بنی ہاشم، عن سعید بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - سوائے اس کے کہ انہوں نے حبیبہ بنت شریق سے کہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ تھیں۔ اس کی مکمل تخریج اور کلام وہیں دیکھیں، اور پچھلا نمبر (1604) بھی ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: یہ "صحیح لغیرہ" ہے، اور یہ سند "حسن" ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں عبد اللہ بن رجاء سے مراد "الغدانی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 15) عن أبي سعيد مولى بني هشام، عن سعيد بن سلمة، بهذا الإسناد - إلّا أنه قال فيه عن حبيبة بنت شريق: أنها كانت مع أبيها. وانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك. وانظر ما سلف برقم (1604).
حوالہ / مصدر: اسے احمد 39/ (24009/ 15) نے ابو سعید مولیٰ بنی ہاشم، عن سعید بن سلمہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - سوائے اس کے کہ انہوں نے حبیبہ بنت شریق سے کہا کہ وہ اپنے والد کے ساتھ تھیں۔ اس کی مکمل تخریج اور کلام وہیں دیکھیں، اور پچھلا نمبر (1604) بھی ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3025 سے ماخوذ ہے۔