حدیث نمبر: 3018
حدثنا أبو محمد أحمد بن إبراهيم بن هاشم الحافظ إملاءً، حدثنا تَمِيم ابن محمد بن طُمْغاج، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا سفيان بن عُيَينة وأبو أسامة، عن محمد بن عمرو، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبير قال: قال الزُّبير: لما نزلت: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31]- قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما كان بيننا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذنوب؟ فقال: "نعم، يُكرَّرُ عليهم ذلك حتى يُؤدُّوا إلى كلِّ ذي حقٍّ حقَّه"، فقال الزبير: والله إنَّ الأمر لشديدٌ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2981 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ ”بیشک آپ کو بھی وفات پانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے، پھر تم سب قیامت کے دن اپنے رب کے حضور جھگڑو گے۔“ [سورة الزمر: 30 - 31] تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دنیا میں ہمارے درمیان جو (اختلافات) تھے وہ گناہوں کی تفصیلات سمیت دوبارہ ہمارے سامنے لائے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، وہ سب ان کے سامنے دہرائے جائیں گے یہاں تک کہ ہر صاحبِ حق کو اس کا حق ادا کر دیا جائے۔“ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! پھر تو معاملہ بہت سخت ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3018
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة اللَّيثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة. وأخرجه أحمد 3/ (1405)
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة اللَّيثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة. وأخرجه أحمد 3/ (1405)، والترمذي (3236) من طريق سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. ورواية أحمد مختصرة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وأخرجه أحمد (1434) عن عبد الله بن نمير، عن محمد بن عمرو، به.» [ترقيم الرساله 3018] [ترقيم الشركة 2999] [ترقيم العلميه 2981]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده حسن من أجل محمد بن عمرو: وهو ابن علقمة اللَّيثي. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة. وأخرجه أحمد 3/ (1405)، والترمذي (3236) من طريق سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. ورواية أحمد مختصرة. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح. وأخرجه أحمد (1434) عن عبد الله بن نمير، عن محمد بن عمرو، به.
درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن عمرو (ابن علقمہ اللیثی) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
تفصیلِ روایت: یہاں ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد 3/ (1405) اور ترمذی (3236) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے (احمد کی روایت مختصر ہے)، اور ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔ نیز اسے احمد (1434) نے عبد اللہ بن نمیر، عن محمد بن عمرو کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (3668) و (3669) و (8923).
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (3668)، (3669)، اور (8923) پر آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3018 سے ماخوذ ہے۔