کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قرآن مجید کی آیت {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ} کی تفسیر
١٧٧٣٤ - حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن أبي الخليل أن أبا علقمة الهاشمي حدثنا أن أبا سعيد الخدري حدثهم أن (النبي بعث) (١) يوم حنين سرية ⦗٤٠١⦘ فأصابوا حيًا من العرب يوم أوطاس فهزموهم وقتلوهم؛ وأصابوا لهم نساء لهن أزواج، فكان أناس من أصحاب النبي ﷺ ((تأثموا) (٢) من غشيانهن) (٣) من أجل أزواجهن فأنزل اللَّه: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ (النِّسَاءِ) (٤) إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، منهن (فحلال) (٥) لكم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حنین کی جنگ میں ایک لشکر کو عرب کے ایک قبیلے کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ انہوں نے اس قبیلے سے لڑائی کی اور انہیں شکست دے دی۔ پھر ان کی بعض ایسی عورتوں سے جماع کیا جن کے خاوند تھے۔ ان کے اس عمل کو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہ م نے گناہ سمجھا کیونکہ ان کے خاوند تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } یعنی تمہاری باندیاں بھی تمہارے لئے حلال ہیں۔
١٧٧٣٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: قال علي: في قوله (تعالى) (١): ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾، قال: (ذوات) (٢) الأزواج [من المشركين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان عورتوں سے مراد وہ مشرک عورتیں ہیں جن کے خاوند ہوں۔
١٧٧٣٦ - حدثنا الثقفي عن خالد عن أبي قلابة عن ابن مسعود قال: سبايا كان (لهن) (١) أزواج قبل أن (يسبين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جو قیدی ہوں اور قیدی بنائے جانے سے پہلے ان کے خاوند ہوں۔
١٧٧٣٧ - حدثنا يحيى بن (سعيد) (١) عن التيمي عن أبي (مجلز) (٢) عن أنس: ⦗٤٠٢⦘ ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾] (٣)، قال: ذوات الأزواج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کے خاوند ہوں۔
١٧٧٣٨ - حدثنا أبو داود عن (زمعة) (١) عن الزهري عن ابن المسيب قال: ذوات الأزواج، يرجع ذلك إلى أن اللَّه (تعالى) (٢) حرم الزنى.
١٧٧٣٩ - حدثنا ابن إدريس عن أشعث وهشام عن محمد عن عبيدة: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾، قال بيده هكذا وأشار بالأربع: ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾.
١٧٧٤٠ - حدثنا ابن إدريس عن الصلت عن إبراهيم قال: كل ذات زوج عليك حرام [إلا ما أصبت من السبايا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ہر خاوند والی عورت تیرے لئے حرام ہے البتہ وہ عورتیں جو قیدی بنا کر لائی جائیں وہ حلال ہیں۔
١٧٧٤١ - حدثنا ابن إدريس عن زكريا عن الشعبي قال: نزلت يوم أوطاس (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت یوم اوطاس کے دن نازل ہوئی۔
١٧٧٤٢ - حدثنا ابن مسهر عن أشعث عن (الحسن) (١) قال: كل ذات زوج عليك حرام] (٢) إلا ما ملكت يمينك يعني من السبايا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ہر خاوند والی عورت تیرے لئے حرام ہے سوائے باندیوں کے یعنی قیدی بنا کر لائی جانے والی عورتوں کے۔
١٧٧٤٣ - [حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن قيس بن مسلم عن الحسن بن محمد مثله] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
١٧٧٤٤ - حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء قال: هو الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ وہ زنا ہے سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سوائے ان عورتوں کے جو تمہاری ملکیت میں ہوں۔ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ دشمن کی قیدی عورتوں سے اس صورت میں جماع کیا جاسکتا ہے جب ان کے خاوند بھی قید کئے گئے ہوں۔
١٧٧٤٧ - وقال ابن عباس: ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ (١)﴾] (٢) ينزع الرجل (وليدته) (٣): (امرأة) (٤) (عبده) (٥) (٦).
١٧٧٤٩ - حدثنا يحيى بن يمان عن أشعث عن جعفر عن (سعيد) (١) بن جبير قال: أربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایسی چار عورتیں رکھ سکتا ہے۔
١٧٧٥٠ - حدثنا ابن يمان عن ابن جريج عن مكحول قال: أربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ ایسی چار عورتیں رکھ سکتا ہے۔
١٧٧٥١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن عبد اللَّه: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ قال: [ذوات الأزواج (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کے خاوند ہوں۔
١٧٧٥٢ - [حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد اللَّه في قوله: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ قال] (١): كل ذات زوج عليك حرام إلا ما ملكت يمينك أو (تشتريها) (٢)] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر خاوند والی عورت تجھ پر حرام ہے سوائے اس کے جو تیری باندی ہو یا تو نے اسے خریدا ہو۔
١٧٧٥٣ - حدثنا علي بن مسهر عن أشعث عن الحسن قال: كل ذات زوج عليك حرام إلا ما ملكت يمينك من السبايا، يريد ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾.
مولانا محمد اویس سرور
حسن قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ہر خاوند والی عورت تیرے لئے حرام ہے سوائے تیری قیدی باندی کے۔
١٧٧٥٤ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) قال: أخبرنا إسرائيل عن عبد الكريم عن مكحول: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ قال: ذوات الأزواج.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جن کے خاوند ہوں۔
١٧٧٥٥ - حدثنا وكيع عن مالك بن مغول عن أبي السوداء قال: سألت عكرمة عنها فقال: لا أدري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو السوداء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عکرمہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار فرمایا اور حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس سے مراد ہر خاوند والی عورت ہے۔
١٧٧٥٧ - حدثنا معاوية بن هشام قال: (نا) (١) شريك عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ (قال: من النساء) (٢) كلهن إلا ذوات الأزواج من السبايا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان سے مراد تمام عورتیں ہیں سوائے ان خاوند والی عورتوں کے جنہیں قیدی بنایا گیا ہو۔
١٧٧٥٨ - حدثنا غندر عن ابن جريج عن عطاء في قوله: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، قال: [الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایسی عورتوں سے جماع زنا ہے۔ حضرت مجاہد بھی اسے زنا قرار دیتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مملوکہ عورتوں کے علاوہ کسی سے جماع کرنا زنا ہے۔ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مراد دشمن کی قیدی عورتیں ہیں۔
١٧٧٦٠ - وقال ابن عباس: هو الزنى ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، ينزع الرجل وليدة امرأة عبده فيطأها إن شاء (١).
١٧٧٦٢ - حدثنا محمد بن الحسن عن شريك عن سالم عن سعيد في قوله: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، قال] (١): نزلت في نساء أهل حنين، لما افتتح رسول اللَّه ﷺ (حنينًا) (٢) أصاب المسلمون (سبايا) (٣)، فكان الرجل إذا أراد أن يأتي المرأة منهن قالت: إن لي زوجًا فأتوا النبي ﷺ فذكروا ذلك له فأنزل اللَّه تعالى: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، قال: السبايا من ذوات الأزواج (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَآئِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت حنین والوں کی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب رسول اللہ e نے حنین کو فتح فرمایا تو مسلمانوں کے ہاتھ بہت سے قیدی لگے۔ جب کوئی مسلمان کسی قیدی عورت کے پاس جاتا تو وہ کہتی کہ میرا تو خاوند ہے۔ چناچہ حضور e سے اس بات کا تذکرہ کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا : { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ إلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ } اس سے مراد وہ قیدی عورتیں ہیں جن کے خاوند ہوں۔
١٧٧٦٣ - حدثنا شبابة عن (ورقاء) (١) عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾، (نهي) (٢) عن الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں ہیں کہ اس میں زنا سے منع کیا گیا ہے۔
١٧٧٦٤ - حدثنا أبو أسامة (عن يونس بن أبي إسحاق) (١) عن طارق عن سعيد ابن المسيب قال: لا تغرنكم هذه الآية ﴿(إِلَّا) (٢) مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾، (إنما) (٣) عنى به الإماء ولم يعن به العبيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب قرآن مجید کی آیت { وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَائِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس آیت سے دھوکہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اس سے مراد باندیاں ہیں غلام نہیں ہیں۔