کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں)
حَدَّثَنَا بِهَذِهِ النِّسْبَةِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللهِ .
ترجمہ
علی بن عبدالعزیز نے یہی نسب زبیر بن بکار کے واسطے سے مصعب بن عبداللہ سے بیان کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَبْلَ مَخْرَجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ - أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ - وَتَزَوَّجَ عَائِشَة قَرِيبًا مِنْ مَوْتِ خَدِيجَةَ»
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم ﷺ کی مدینہ ہجرت سے تین سال یا اس کے لگ بھگ پہلے ہوئی، اور آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے قریب ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: «نَكَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ، وَأُهْدِيَتْ إِلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَلُعَبُهَا مَعَهَا وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانَ عَشْرَةَ» .
ترجمہ
عروہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت نکاح فرمایا جب وہ چھ سال کی تھیں، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب وہ نو سال کی تھیں اور ان کے کھلونے بھی ان کے ساتھ تھے، اور آپ ﷺ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ اٹھارہ سال کی تھیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، مِثْلَهُ
ترجمہ
ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ سے اسی طرح کی روایت بھی نقل کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ الْكُوفِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: «مَاتَتْ عَائِشَةُ سَنَةَ سَبْعٍ وَخَمْسِينَ»
ترجمہ
ہشام بن عروہ بیان کرتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ستاون ہجری میں ہوا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَوْصَتْ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَتْ: «لَا تَدْفِنَنِّي مَعَهُمْ، وَادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي بِالْبَقِيعِ أَلَا أَزْكَى أَبَدًا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: ”مجھے ان کے ساتھ دفن نہ کرنا، بلکہ میری سہیلیوں کے ساتھ بقیع میں دفن کرنا، تاکہ میں کبھی اپنے آپ کو بڑا نہ سمجھوں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا جُمْهُورُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَنَّانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ عَبْدِ اللهِ، وَلَمْ يَكُنْ وَلَدٌ لِي قَطُّ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ﷺ نے مجھے ”ام عبداللہ“ کی کنیت دی، حالانکہ میرے کبھی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتَنِي أُمَّ عَبْدِ اللهِ» ، فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللهِ، حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا: آپ کی سب بیویوں کی کنیت ہے سوائے میرے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم اپنی کنیت ام عبداللہ رکھ لو۔“ چنانچہ انہیں ام عبداللہ کہا جانے لگا، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا اور انہوں نے کبھی کسی بچے کو جنم نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَرَجِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تُكَنِّينِي فَكُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ؟، قَالَ: «بَلَى، اكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللهِ» ، فَكَانَتْ تُكَنَّى أُمَّ عَبْدِ اللهِ.
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میری کنیت نہیں رکھیں گے؟ آپ کی سب بیویوں کی تو کنیت ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اپنے بھانجے عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو۔“ چنانچہ ان کی کنیت ام عبداللہ ہو گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مِثْلَهُ
ترجمہ
عباد بن حمزہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اسی طرح کی روایت نقل کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي، قَالَ: «فَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللهِ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کی سب بیویوں کی کنیت ہے سوائے میرے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تم ام عبداللہ ہو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، قَالَ: «كَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَلَمْ يُولَدْ لَهَا»
ترجمہ
ہشام بن عروہ بعض اپنے ساتھیوں سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت رکھی، حالانکہ ان کے ہاں کبھی کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَعْيَنَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ الْقَيْسِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: " تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ وَلَمْ يَنْكِحْ بِكْرًا غَيْرَهَا، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَقَدْ زَعَمُوا أَنَّ جِبْرِيلَ قَالَ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ قَبْلَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، فَتَزَوَّجَهَا بِمَكَّةَ قَبْلَ الْهِجْرَةِ، وَبَعْدَ وَفَاةِ خَدِيجَةَ، ثُمَّ ابْتَنَى بِهَا بِالْمَدِينَةِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَتُوُفِّيَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ سَنَةً "
ترجمہ
قتادہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سے نکاح فرمایا، اور ان کے سوا کسی اور کنواری سے نکاح نہیں فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ جبریل علیہ السلام نے نکاح سے پہلے فرمایا تھا: ”یہ تمہاری بیوی ہیں۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے مکہ میں، ہجرت سے پہلے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان سے نکاح فرمایا، پھر مدینہ میں ان کے ساتھ رخصتی کی جب ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا جب ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُتِيتُ بِجَارِيَةٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ بَعْدِ وَفَاةِ خَدِيجَةَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ» ، فَقُلْتُ: " إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ أَيْضًا بِجَارِيَةٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَكَشَفْتُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ریشم کے ایک ٹکڑے میں ایک لڑکی دکھائی گئی، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد، تو دیکھا وہ تم ہو، تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔ پھر مجھے دوبارہ ریشم کے ایک ٹکڑے میں ایک لڑکی دکھائی گئی، تو میں نے اسے کھولا تو دیکھا وہ تم ہو، تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد، مکہ سے روانگی سے پہلے مجھ سے نکاح فرمایا، اس وقت میری عمر سات یا چھ سال تھی۔ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو کچھ عورتیں میرے پاس آئیں، اس وقت میں جھولا جھول رہی تھی اور میرے بال بکھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے تیار کیا اور سنوارا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئیں، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُتِيتُ بِكِ فِي خِرْقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فِي الْمَنَامِ ثَلَاثَ لَيَالٍ، فَقِيلَ هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَكَشَفْتُ الثَّوْبَ فَإِذَا أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تین راتیں خواب میں ریشم کے ایک کپڑے میں تمہیں دکھایا گیا۔ کہا گیا: یہ تمہاری بیوی ہیں۔ میں نے کپڑا کھولا تو دیکھا وہ تم ہو۔ تو میں کہتا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُكِ فِي الْمَنَامِ مَرَّتَيْنِ، أَرَى رَجُلًا يَحْمِلُكِ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، فَيَقُولُ: هَذِهِ زَوْجَتُكِ فَاكْشِفْهَا، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تمہیں خواب میں دو مرتبہ دیکھا: ایک آدمی تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے اور کہتا ہے: یہ تمہاری بیوی ہیں، اسے کھولو۔ تو میں کھولتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ وہ تم ہو، تو میں کہتا ہوں: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سَبْعٍ، وَزُفِفْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَاتَ وَأَنَا بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح کیا جب میری عمر سات سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا جب میری عمر اٹھارہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر سات سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَأَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ، وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، فَدَخَلَ عَلَيَّ وَأَنَا أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ، وَكَانَ لِي صَوَاحِبُ يَلْعَبْنَ مَعِي، فَرُبَّمَا اسْتَحْيَيْنَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر سات سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔ آپ ﷺ میرے پاس تشریف لاتے تو میں کھلونوں سے کھیل رہی ہوتی تھی، اور میری کچھ سہیلیاں میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔ کبھی وہ رسول اللہ ﷺ سے شرما جاتیں تو آپ ﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ الصَّفَّارُ، قَالَ: ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَكَانَتْ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی، اور وہ نو سال آپ ﷺ کے نکاح میں رہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ، وَأُدْخِلَتْ عَلَيْهِ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی، اور وہ نو سال آپ ﷺ کے پاس رہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا قَبْلَ مَخْرَجِهِ مِنْ مَكَّةَ بِثَلَاثِ سِنِينَ - أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ -، وَنَكَحَهَا وَهِيَ بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، ثُمَّ بَنَى بِهَا بَعْدَ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ وَهِيَ يَوْمَ بِنَائِهَا بِنْتُ تِسْعٍ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے مکہ سے روانگی سے تین سال یا اس کے لگ بھگ پہلے نکاح فرمایا، اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد ان کے ساتھ رخصتی کی، اور رخصتی کے دن ان کی عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَيَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالُوا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعٍ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، ومَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر سات سال تھی، رخصتی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا جب ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْحَنَّاطُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس وقت نکاح کیا جب میری عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ، ثنا عَبْثَرُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَصَحِبْتُهُ تِسْعًا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے نو سال کی عمر میں مجھ سے نکاح فرمایا، اور میں نو سال آپ ﷺ کے ساتھ رہی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر سات سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أُدْخِلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَكَثْتُ عِنْدَهُ تِسْعَ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری رخصتی نبی کریم ﷺ کے پاس اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی، اور میں نو سال آپ ﷺ کے پاس رہی۔
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الرَّقِّيُّ، ثنا قَبِيصَةُ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ عَائِشَةَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ، وَمَكَثَتْ عِنْدَهُ تِسْعًا»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر نو سال تھی، اور وہ نو سال آپ ﷺ کے پاس رہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ قَالَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ الْأَوْقَصِ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ وَذَلِكَ بِمَكَّةَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَزَوَّجُ؟، قَالَ: «مَنْ؟» ، قَالَتْ: إِنْ شِئْتَ بِكْرًا، وَإِنْ شِئْتَ ثَيِّبًا، قَالَ: «فَمَنِ الْبِكْرُ؟» ، قَالَتْ: ابْنَةُ أَحَبِّ خَلْقِ اللهِ إِلَيْكَ عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: «وَمَنِ الثَّيِّبُ؟» ، قَالَتْ: سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ آمَنَتْ بِكَ وَاتَّبَعَتْكَ عَلَى مَا أَنْتَ عَلَيْهِ، قَالَ: «فَاذْهَبِي فَاذْكُرِيهِمَا عَلَيَّ» فَجَاءَتْ فَدَخَلَتْ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ فَوَجَدَتْ أُمَّ رُومَانَ أُمَّ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ رُومَانَ مَاذَا أَدْخَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطِبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ، قَالَتْ: وَدِدْتُ انْتَظِرِي أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهُ آتٍ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَاذَا أَدْخَلَ اللهُ عَلَيْكُمْ مِنَ الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ؟، أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْطِبُ عَلَيْهِ عَائِشَةَ، قَالَ: هَلْ تَصْلُحُ لَهُ وَإِنَّمَا هِيَ بِنْتُ أَخِيهِ، فَرَجَّعَنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " ارْجِعِي إِلَيْهِ فَقُولِي لَهُ: أَنْتَ أَخِي فِي الْإِسْلَامِ، وَأَنَا أَخُوكَ وَابْنَتُكَ تَصْلُحُ لِي "، فَأَتَتْ أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ لِخَوْلَةَ: ادْعِي لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَأَنْكَحَهُ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو سیدہ خولہ بنت حکیم بن امیہ بن اوقص رضی اللہ عنہا، جو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، نے مکہ میں کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نکاح نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس سے؟“ انہوں نے کہا: اگر آپ چاہیں تو کنواری سے، اور اگر چاہیں تو بیوہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور کنواری کون ہے؟“ انہوں نے کہا: اللہ کی مخلوق میں آپ کو سب سے پیارے شخص کی بیٹی، عائشہ بنت ابی بکر۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بیوہ کون؟“ انہوں نے کہا: سودہ بنت زمعہ، جو آپ پر ایمان لائیں اور آپ کی پیروی کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور میری طرف سے ان دونوں کا پیغام دو۔“ چنانچہ وہ گئیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو کر ام رومان، عائشہ کی والدہ، سے ملیں اور کہا: اے ام رومان! اللہ نے تمہارے گھر میں کیا خیر و برکت داخل کی ہے! رسول اللہ ﷺ نے مجھے عائشہ کا رشتہ مانگنے بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں چاہتی ہوں کہ تم ابوبکر کا انتظار کرو، وہ آنے والے ہیں۔ پھر ابوبکر آئے تو انہوں نے کہا: اے ابوبکر! اللہ نے تمہارے گھر میں کیا خیر و برکت داخل کی ہے! رسول اللہ ﷺ نے مجھے عائشہ کا رشتہ مانگنے بھیجا ہے۔ ابوبکر نے کہا: کیا وہ ان کے لیے مناسب ہے، جبکہ وہ تو ان کے بھائی کی بیٹی ہے؟ چنانچہ انہوں نے مجھے واپس رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا، تو میں نے آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور ان سے کہو: تم اسلام میں میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں، اور تمہاری بیٹی میرے لیے مناسب ہے۔“ چنانچہ وہ ابوبکر کے پاس واپس آئیں تو انہوں نے خولہ سے کہا: میرے لیے رسول اللہ ﷺ کو بلا لاؤ۔ چنانچہ آپ ﷺ تشریف لائے اور انہوں نے ان کا نکاح کر دیا، اور اس وقت میری عمر چھ سال تھی۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میری عمر چھ سال تھی، اور رخصتی اس وقت ہوئی جب میری عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِ عَشْرَةَ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس وقت نکاح فرمایا جب ان کی عمر نو سال تھی، اور آپ ﷺ کا انتقال ہوا جب ان کی عمر اٹھارہ سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَنَا وَخَلَّفَ بَنَاتِهِ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ بِالْمَدِينَةِ بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاهُ، وَأَعْطَاهُمَا بَعِيرَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ أَخَذَهَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ يَشْتَرَيَانِ بِهَا مَا يَحَتَاجَانِ إِلَيْهِ مِنَ الظُّهْرِ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُمَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُرَيْقِطٍ الدُّؤَلِيَّ بِبَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَحْمِلَ أَهْلَهُ أُمَّ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ رُومَانَ، وَأَنَا وَأَخِي وَأَسْمَاءُ امْرَأَةُ الزُّبَيْرِ، فَخَرَجُوا مُصْحَبِينَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قُدَيْدٍ، اشْتَرَى زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِتِلْكَ الْخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ثَلَاثَةَ أَبْعِرَةٍ، ثُمَّ دَخَلُوا مَكَّةَ جَمِيعًا، فَصَادَفُوا طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُرِيدُ الْهِجْرَةَ، فَخَرَجْنَا جَمِيعًا، وَخَرَجَ زَيْدٌ وَأَبُو رَافِعٍ بِفَاطِمَةَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، وَحَمَلَ زَيْدٌ أُمَّ أَيْمَنَ وَوَلَدَهَا أَيْمَنَ، وَأُسَامَةَ، وَاصْطَحَبَنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبيضِ مِنْ نَمِرَ نَفَرَ بَعِيرِي وَأَنَا فِي مِحَفَّةٍ مَعِي فِيهَا أُمِّي، فَجَعَلَتْ أُمِّي تَقُولُ: وَا ابْنَتَاهُ وَا عَرُوسَاهُ، حَتَّى إِذَا أُدْرِكَ بَعِيرُنَا وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ هَرْشَا فَسَلَّمَ اللهُ، ثُمَّ إِنَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ مَعَ عِيَالِ أَبِي بَكْرٍ، وَنَزَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَبْنِي الْمَسْجِدَ وَأَبْيَاتًا حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَنْزَلَ فِيهَا أَهْلَهُ، فَمَكَثْنَا فِيهَا أَيَّامًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَبْتَنِيَ بِأَهْلِكَ؟، قَالَ: «الصَّدَاقُ» ، فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيْنَا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي هَذَا الَّذِي أَنَا فِيهِ، وَهُوَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَدُفِنَ فِيهِ، وَأَدْخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ مَعَهُ أَحَدَ تِلْكَ الْبُيُوتِ، وَكَانَ يَكُونُ عِنْدَهَا، وَكَانَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّايَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْجَوَارِي، فَمَا حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَنِي حَتَّى أَخَذَتْنِي أُمِّي فَحَبَسَتْنِي فِي الْبَيْتِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي تَزَوَّجْتُ، فَمَا سَأَلْتُهَا حَتَّى كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان دنوں رسول اللہ ﷺ مسجد اور مسجد کے ارد گرد کچھ کمرے تعمیر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو ان میں ٹھہرا دیا، ہم کئی دن ان میں رہے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اپنی زوجہ کے ساتھ رخصتی کرنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہر۔“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو بارہ اوقیہ اور ایک نش (چاندی) دی، آپ ﷺ نے وہ ہمارے پاس بھیج دی، اور رسول اللہ ﷺ نے میرے اسی گھر میں میری رخصتی کی جس میں میں اب رہتی ہوں، اور یہی وہ گھر ہے جس میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا اور جس میں آپ ﷺ دفن ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو بھی انہی گھروں میں سے ایک میں اپنے ساتھ ٹھہرایا، اور آپ ﷺ ان کے ہاں بھی جایا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میں دوسری بچیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، اور مجھے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کر لیا ہے، یہاں تک کہ میری والدہ نے مجھے پکڑ کر گھر میں روک لیا، تو میرے دل میں آیا کہ میرا نکاح ہو گیا ہے، اور میں نے ان سے کچھ نہیں پوچھا یہاں تک کہ انہوں نے خود مجھے بتا دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: «خَطَبُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ قَدْ زَوَّجَهَا جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ فَخَلَعَهَا مِنْهُ، فَزَوَّجَهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ، تَرَكَهَا ثَلَاثَ سِنِينَ، ثُمَّ بَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ»
ترجمہ
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رشتہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مانگا، جبکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہلے ان کا نکاح جبیر بن مطعم سے کر رکھا تھا، تو انہوں نے یہ نکاح ختم کروا کر انہیں رسول اللہ ﷺ سے بیاہ دیا، اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی۔ آپ ﷺ نے انہیں تین سال چھوڑے رکھا، پھر ان کی رخصتی کی جب ان کی عمر نو سال تھی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: أَنَا قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَدْخَلْتُهَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أُتِينَا بِحِلَابٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَأَعْرَضَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْ مِنْهُ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ نَاوَلَتْنِي فَشَرِبْتُ فَجَعَلْتُ أُدِيرُ الْإِنَاءَ لِأَنْ أُصَادِفَ الْمَوْضِعَ الَّذِي شَرِبَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَاوَلْتُهُ امْرَأَةً مَعِي، فَقَالَتْ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعِي كَذِبًا وَجُوعًا»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں برتن کو گھماتی تھی تاکہ اسی جگہ سے پیوں جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا، پھر میں نے وہ اپنے ساتھ موجود ایک عورت کو دیا، اس نے کہا: مجھے اس کی خواہش نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ اور بھوک کو اکٹھا مت کرو۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ حَوْفٌ، وَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ تَزَوَّجَنِي أُلْقِيَ عَلَيَّ الْحَيَاءُ» . قَالَ سُفْيَانُ: " وَالْحَوْفُ: ثَوْبٌ مِنْ سُيُورٍ يُلْبِسُهُ الْأَعْرَابُ أَبْنَاءَهَا "
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا جبکہ میں بچوں والا چمڑے کا کپڑا پہنے ہوئے تھی، اور جیسے ہی آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا، مجھ پر حیا ڈال دی گئی۔
سفیان کہتے ہیں: ”حوف چمڑے کی پٹیوں سے بنا ہوا کپڑا ہے جو بدو اپنے بچوں کو پہناتے تھے۔“
سفیان کہتے ہیں: ”حوف چمڑے کی پٹیوں سے بنا ہوا کپڑا ہے جو بدو اپنے بچوں کو پہناتے تھے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْحَارِثِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «سَمَّنُونِي بِكُلِّ شَيْءٍ فَلَمْ أَسْمَنْ، فَسَمَّنُونِي بِالْقِثَّاءِ وَالرُّطَبِ فَسَمِنْتُ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے ہر چیز کھلا کر موٹا کرنے کی کوشش کی گئی مگر میں موٹی نہ ہوئی، پھر مجھے کھیرا اور تازہ کھجور کھلائی گئی تو میں موٹی ہو گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اللَّيْثِ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «لَمَّا تَزَوَّجَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمَّنَنِي أَهْلِي بِكُلِّ شَيْءٍ فَلَمْ أَسْمَنْ، فَأَطْعَمُونِي الْقِثَّاءَ وَالرُّطَبَ فَسَمِنْتُ عَلَيْهِ أَحْسَنَ السِّمَنِ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب نبی کریم ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا تو میرے گھر والوں نے مجھے ہر چیز کھلا کر موٹا کرنے کی کوشش کی مگر میں موٹی نہ ہوئی، پھر مجھے کھیرا اور تازہ کھجور کھلائی گئی تو میں بہت اچھی طرح موٹی ہو گئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَقْبَلَتْ عَلَيَّ أُمِّي بِكُلِّ مَا تُقْبَلُ بِهِ النِّسَاءُ، فَلَمْ أُجِبْ عَلَى ذَلِكَ، فَأَطْعَمُونِي الْقِثَّاءَ وَالتَّمْرَ حِينَ أَرَادُوا أَنْ يَهْدُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ أَحْسَنَ إِقْبَالٍ»
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری والدہ نے مجھ پر وہ سب کچھ آزمایا جو عورتوں کو موٹا کرنے کے لیے آزمایا جاتا ہے، مگر میں نے اس پر کوئی خاص اثر نہ دکھایا، پھر جب وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس رخصت کرنا چاہتی تھیں تو مجھے کھیرا اور کھجور کھلائی، تو میں نے بہت اچھی طرح رخ کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟» ، قَالَ: وَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ نِسَاؤُهَا فِي شَوَّالٍ
ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا اور میری رخصتی شوال میں ہوئی، تو نبی کریم ﷺ کی بیویوں میں سے کون سی مجھ سے زیادہ خوش نصیب تھی؟
راوی کہتے ہیں: اور وہ پسند فرماتی تھیں کہ ان کے خاندان کی عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔
راوی کہتے ہیں: اور وہ پسند فرماتی تھیں کہ ان کے خاندان کی عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔
…