حدیث نمبر: 19333
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَسَدٍ الْبَجَلِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ خَدِيجَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيْنَ أَطْفَالِي مِنْكَ؟، قَالَ: «فِي الْجَنَّةِ» ، قُلْتُ: بِلَا عَمَلٍ؟، قَالَ: «اللهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» ، قُلْتُ: فَأَيْنَ أَطْفَالِي قَبْلَكَ؟ قَالَ: «فِي النَّارِ» ، قُلْتُ: بِغَيْرِ عَمَلٍ؟، قَالَ: «لَقَدْ عَلِمَ اللهُ مَا كَانُوا عَامِلِينَ»
عَائِشَةُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ «زَوْجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَنَّاهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَّ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأُمُّ عَائِشَةَ، وَأَخِيهَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أُمُّ رُومَانَ بِنْتُ عَامِرِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ عَبْدِ شَمْسِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ أُذَيْنَةَ بْنِ سُبَيْعِ بْنِ رُهْمَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ كِنَانَةَ»
ترجمہ

سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سے پہلے (شادی سے) میرے بچے کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں۔“ میں نے عرض کیا: بغیر عمل کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔“ میں نے عرض کیا: اور آپ سے پہلے کی شادی سے میرے بچے کہاں ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہنم میں۔“ میں نے عرض کیا: بغیر عمل کے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو معلوم تھا کہ وہ کیا عمل کرتے۔“
سیدہ عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ، رسول اللہ ﷺ نے انہیں ان کے بھانجے عبداللہ بن زبیر کے نام پر ”ام عبداللہ“ کی کنیت دی۔ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک بن کنانہ تھیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19333
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 16، حدیث 27