حدیث نمبر: 19366
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: " لَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَّفَنَا وَخَلَّفَ بَنَاتِهِ، فَلَمَّا اسْتَقَرَّ بِالْمَدِينَةِ بَعَثَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَبَعَثَ مَعَهُ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاهُ، وَأَعْطَاهُمَا بَعِيرَيْنِ وَخَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ أَخَذَهَا مِنْ أَبِي بَكْرٍ يَشْتَرَيَانِ بِهَا مَا يَحَتَاجَانِ إِلَيْهِ مِنَ الظُّهْرِ، وَبَعَثَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُمَا عَبْدَ اللهِ بْنَ أُرَيْقِطٍ الدُّؤَلِيَّ بِبَعِيرَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ، وَكَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَحْمِلَ أَهْلَهُ أُمَّ أَبِي بَكْرٍ، وَأُمَّ رُومَانَ، وَأَنَا وَأَخِي وَأَسْمَاءُ امْرَأَةُ الزُّبَيْرِ، فَخَرَجُوا مُصْحَبِينَ حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى قُدَيْدٍ، اشْتَرَى زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ بِتِلْكَ الْخَمْسِمِائَةِ دِرْهَمٍ ثَلَاثَةَ أَبْعِرَةٍ، ثُمَّ دَخَلُوا مَكَّةَ جَمِيعًا، فَصَادَفُوا طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يُرِيدُ الْهِجْرَةَ، فَخَرَجْنَا جَمِيعًا، وَخَرَجَ زَيْدٌ وَأَبُو رَافِعٍ بِفَاطِمَةَ وَأُمِّ كُلْثُومٍ وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، وَحَمَلَ زَيْدٌ أُمَّ أَيْمَنَ وَوَلَدَهَا أَيْمَنَ، وَأُسَامَةَ، وَاصْطَحَبَنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبيضِ مِنْ نَمِرَ نَفَرَ بَعِيرِي وَأَنَا فِي مِحَفَّةٍ مَعِي فِيهَا أُمِّي، فَجَعَلَتْ أُمِّي تَقُولُ: وَا ابْنَتَاهُ وَا عَرُوسَاهُ، حَتَّى إِذَا أُدْرِكَ بَعِيرُنَا وَقَدْ هَبَطَ مِنَ الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ هَرْشَا فَسَلَّمَ اللهُ، ثُمَّ إِنَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ مَعَ عِيَالِ أَبِي بَكْرٍ، وَنَزَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ يَبْنِي الْمَسْجِدَ وَأَبْيَاتًا حَوْلَ الْمَسْجِدِ، فَأَنْزَلَ فِيهَا أَهْلَهُ، فَمَكَثْنَا فِيهَا أَيَّامًا، ثُمَّ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَبْتَنِيَ بِأَهْلِكَ؟، قَالَ: «الصَّدَاقُ» ، فَأَعْطَاهُ أَبُو بَكْرٍ اثْنَتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيْنَا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي هَذَا الَّذِي أَنَا فِيهِ، وَهُوَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ وَدُفِنَ فِيهِ، وَأَدْخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ مَعَهُ أَحَدَ تِلْكَ الْبُيُوتِ، وَكَانَ يَكُونُ عِنْدَهَا، وَكَانَ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّايَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْجَوَارِي، فَمَا حُدِّثْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَنِي حَتَّى أَخَذَتْنِي أُمِّي فَحَبَسَتْنِي فِي الْبَيْتِ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي تَزَوَّجْتُ، فَمَا سَأَلْتُهَا حَتَّى كَانَتْ هِيَ الَّتِي أَخْبَرَتْنِي "
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ان دنوں رسول اللہ ﷺ مسجد اور مسجد کے ارد گرد کچھ کمرے تعمیر کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو ان میں ٹھہرا دیا، ہم کئی دن ان میں رہے، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کو اپنی زوجہ کے ساتھ رخصتی کرنے سے کیا چیز روک رہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مہر۔“ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو بارہ اوقیہ اور ایک نش (چاندی) دی، آپ ﷺ نے وہ ہمارے پاس بھیج دی، اور رسول اللہ ﷺ نے میرے اسی گھر میں میری رخصتی کی جس میں میں اب رہتی ہوں، اور یہی وہ گھر ہے جس میں آپ ﷺ کا انتقال ہوا اور جس میں آپ ﷺ دفن ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو بھی انہی گھروں میں سے ایک میں اپنے ساتھ ٹھہرایا، اور آپ ﷺ ان کے ہاں بھی جایا کرتے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے اس وقت نکاح فرمایا جب میں دوسری بچیوں کے ساتھ کھیلا کرتی تھی، اور مجھے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح کر لیا ہے، یہاں تک کہ میری والدہ نے مجھے پکڑ کر گھر میں روک لیا، تو میرے دل میں آیا کہ میرا نکاح ہو گیا ہے، اور میں نے ان سے کچھ نہیں پوچھا یہاں تک کہ انہوں نے خود مجھے بتا دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19366
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 24، حدیث 60