❮
❯
حدیث نمبر: 19368
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَسَنٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، قَالَتْ: أَنَا قَيَّنْتُ عَائِشَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَدْخَلْتُهَا عَلَيْهِ، فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ أُتِينَا بِحِلَابٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبَ مِنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ عَائِشَةَ فَأَعْرَضَتْ، فَقُلْتُ: خُذِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَتْ مِنْهُ فَشَرِبَتْ، ثُمَّ نَاوَلَتْنِي فَشَرِبْتُ فَجَعَلْتُ أُدِيرُ الْإِنَاءَ لِأَنْ أُصَادِفَ الْمَوْضِعَ الَّذِي شَرِبَ مِنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَاوَلْتُهُ امْرَأَةً مَعِي، فَقَالَتْ: لَا أَشْتَهِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعِي كَذِبًا وَجُوعًا»
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید بن سکن رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ہی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم ﷺ کے لیے سجایا سنوارا یہاں تک کہ انہیں آپ ﷺ کے پاس پہنچایا۔ جب وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچیں تو ہمارے پاس دودھ کا ایک برتن لایا گیا، نبی کریم ﷺ نے اس میں سے پیا، پھر وہ عائشہ کو دیا تو انہوں نے منہ پھیر لیا۔ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ سے لے لو، تو انہوں نے آپ ﷺ سے لے کر پیا، پھر مجھے دیا تو میں نے پیا، اور میں برتن کو گھمانے لگی تاکہ اسی جگہ سے پیوں جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے پیا تھا، پھر میں نے وہ اپنے ساتھ موجود ایک عورت کو دیا، اس نے کہا: مجھے اس کی خواہش نہیں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جھوٹ اور بھوک کو اکٹھا مت کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19368
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 26، حدیث 63