المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُتِيتُ بِجَارِيَةٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ مِنْ بَعْدِ وَفَاةِ خَدِيجَةَ فَإِذَا هِيَ أَنْتِ» ، فَقُلْتُ: " إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ، ثُمَّ أُتِيتُ أَيْضًا بِجَارِيَةٍ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ فَكَشَفْتُهَا فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَقُلْتُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ "، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَتَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ قَبْلَ مَخْرَجِهِ مِنْ مَكَّةَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ جَاءَتْنِي نِسْوَةٌ وَأَنَا أَلْعَبُ عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَأَنَا مُجَمَّمَةٌ فَهَيَّأْنَنِي وَصَنَعْنَنِي، ثُمَّ أَتَيْنَ بِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ریشم کے ایک ٹکڑے میں ایک لڑکی دکھائی گئی، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد، تو دیکھا وہ تم ہو، تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔ پھر مجھے دوبارہ ریشم کے ایک ٹکڑے میں ایک لڑکی دکھائی گئی، تو میں نے اسے کھولا تو دیکھا وہ تم ہو، تو میں نے کہا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو وہ اسے پورا کر دے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد، مکہ سے روانگی سے پہلے مجھ سے نکاح فرمایا، اس وقت میری عمر سات یا چھ سال تھی۔ پھر جب ہم مدینہ پہنچے تو کچھ عورتیں میرے پاس آئیں، اس وقت میں جھولا جھول رہی تھی اور میرے بال بکھرے ہوئے تھے۔ انہوں نے مجھے تیار کیا اور سنوارا، پھر مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئیں، اس وقت میری عمر نو سال تھی۔