المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عائشة بنت أبي بكر الصديق " زوج رسول الله صلى الله عليه وسلم، كناها رسول الله صلى الله عليه وسلم أم عبد الله بن الزبير، وأم عائشة، وأخيها عبد الرحمن، أم رومان بنت عامر بن عويمر بن عبد شمس بن عبد مناف بن أذينة بن سبيع بن رهمان بن الحارث بن عبد بن مالك باب: سیدہ عائشہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ (رسول اللہ ﷺ نے انہیں عبداللہ بن زبیر کی خالہ ہونے کے سبب ام عبداللہ کی کنیت دی؛ سیدہ عائشہ اور ان کے بھائی عبدالرحمٰن کی والدہ ام رومان بنت عامر بن عویمر بن عبدشمس بن عبدمناف بن اذینہ بن سبیع بن رہمان بن حارث بن عبد بن مالک تھیں)
حدیث نمبر: 19372
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ السَّعْدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «أَقْبَلَتْ عَلَيَّ أُمِّي بِكُلِّ مَا تُقْبَلُ بِهِ النِّسَاءُ، فَلَمْ أُجِبْ عَلَى ذَلِكَ، فَأَطْعَمُونِي الْقِثَّاءَ وَالتَّمْرَ حِينَ أَرَادُوا أَنْ يَهْدُونِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ أَحْسَنَ إِقْبَالٍ»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میری والدہ نے مجھ پر وہ سب کچھ آزمایا جو عورتوں کو موٹا کرنے کے لیے آزمایا جاتا ہے، مگر میں نے اس پر کوئی خاص اثر نہ دکھایا، پھر جب وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس رخصت کرنا چاہتی تھیں تو مجھے کھیرا اور کھجور کھلائی، تو میں نے بہت اچھی طرح رخ کیا۔