حدیث نمبر: 16007
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَسَّانٍ، ثَنَا شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَتَبَايَعُ فِي السُّوقِ بِالْمَدِينَةِ وَنُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ فَجَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ اسْمٍ مِمَّا كُنَّا نُسَمِّي بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . يَعْنِي فَشُوبُوهُ اخْلِطُوهُ،
ترجمہ

سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ کے بازار میں خرید و فروخت کرتے اور اپنے آپ کو دلال کہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس سے بہتر نام دیا جو ہم خود اپنے لیے رکھتے تھے، اور فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! اس خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسم شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے کچھ صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
راوی کی وضاحت: اس لفظ کا مطلب ہے اسے ملانا، خلط کرنا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16007
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 358، حدیث 916