المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي غرزة الغفاري، ويقال: الجهني، ويقال: البجلي باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 15997
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ الصَّبَّاحِ الرَّقِّيُّ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: جَاءَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسُّوقِ وَنَحْنُ نَبِيعُ الرَّقِيقَ بِالْمَدِينَةِ، وَنَحْنُ نُسَمِّي أَنْفُسَنَا بِالسَّمَاسِرَةِ، فَسَمَّانَا بِأَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْبَيْعُ وَالْأَيْمَانُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ»ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مدینہ میں غلام بیچ رہے تھے، اور ہم اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہمیں اس نام سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنا رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس خرید و فروخت میں سودے بازی اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“