حدیث نمبر: 16000
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي غَرَزَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبِيعُ فِي السُّوقِ، وَنَحْنُ نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ سُوقَكُمْ هَذَا يُخَالِطُهَا اللَّغْوُ فَشُوبُوهَا بِالصَّدَقَةِ أَو بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ الْجَعْدِ
ترجمہ

سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بازار میں خرید و فروخت کر رہے تھے اور اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجرو! تمہارے اس بازار میں لغو باتیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے صدقے کے ساتھ، یا کچھ صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
یہ الفاظ علی بن جعد کی روایت کے ہیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب القاف / حدیث: 16000
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 18، صفحہ 355، حدیث 909