المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي غرزة الغفاري، ويقال: الجهني، ويقال: البجلي باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16004
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا عَارِمُ أَبُو النُّعْمَانِ، ح وَحَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، قَالَا: ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَبَايَعُ فِي السُّوقِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ» فَفَرِحَ الْقَوْمُ وَاشْرَأَبُّوا إِلَيْهِ، وَكُنَّا نُدْعَى السَّمَاسِرَةَ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ سَمَّانَا بِالتُّجَّارِ، وَقَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ وَالإِثْمَ يَحْضُرَانِ الْبَيْعَ، فَشُوبُوا بَيْعَكُمْ بِصَدَقَةٍ»ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم بازار میں خرید و فروخت کر رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت!“ لوگ خوش ہو گئے اور آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس سے پہلے ہم دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ پہلے شخص تھے جنہوں نے ہمیں تاجر کا نام دیا، اور فرمایا: ”بےشک شیطان اور گناہ خرید و فروخت میں شامل ہو جاتے ہیں، لہٰذا اپنی خرید و فروخت کو صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“