المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي غرزة الغفاري، ويقال: الجهني، ويقال: البجلي باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16003
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ، ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، قَالُوا: ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى التُّجَّارِ وَهُمُ يُسَمَّوْنَ بِاسْمٍ غَيَّرَهُ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّكُمْ يَحْضُرُ بَيْعَكُمْ بِلَغْوٍ وَأَيْمَانٍ فَشُوبُوهَا بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ» . وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ حَجَّاجٍترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ تاجروں کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت ایک ایسے نام سے پکارے جاتے تھے جسے آپ ﷺ نے بدل دیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، لہٰذا اسے کچھ صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ حجاج کی روایت کے ہیں۔