المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي غرزة الغفاري، ويقال: الجهني، ويقال: البجلي باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 15999
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: كُنَّا نَبْتَاعُ بِالْمَدِينَةِ وَكُنَّا نُسَمِّي أَنْفُسَنَا السَّمَاسِرَةَ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ أَحْسَنَ مِمَّا سَمَّيْنَا بِهِ أَنْفُسَنَا فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلِفُ فَشُوبُوهُ بِشَيْءٍ مِنَ الصَّدَقَةِ»ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم مدینہ میں خرید و فروخت کرتے تھے اور اپنے آپ کو ’سماسرہ‘ کہتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس نام سے بہتر نام دیا جو ہم نے خود اپنا رکھا تھا، اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس خرید و فروخت میں لغو باتیں اور قسمیں شامل ہو جاتی ہیں، سو اسے کچھ صدقے کے ساتھ ملا لیا کرو۔“