المعجم الكبير للطبراني
باب القاف— حرف قاف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قيس بن أبي غرزة الغفاري، ويقال: الجهني، ويقال: البجلي باب: سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ، انہیں جہنی اور بجلی بھی کہا جاتا ہے
حدیث نمبر: 16006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا أَبُو مَرْيَمَ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَقَالَ لَنَا: «يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ إِنَّ بَيْعَكُمْ هَذَا يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ وَالشَّيْطَانُ فَشُوبُوهُ بِصَدَقَةٍ»ترجمہ
سیدنا قیس بن ابی غزرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم دلال کہلاتے تھے، تو آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا: ”اے تاجروں کی جماعت! تمہاری اس خرید و فروخت میں قسم اور شیطان شامل ہو جاتے ہیں، لہٰذا اسے صدقہ کے ساتھ ملا لیا کرو۔“