حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيهِ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَكَرْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَامَ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلَهَا، فَأَصْبَحَ طِفْلَيْهَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مُلَطْخَيْنِ بِالدَّمِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَجَمَعَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: «أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا عَلَيْهِ حَقٌّ فَعَلَ مَا فَعَلَ لَمَا قَامَ» فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَوَلْوَلُ فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ صَاحِبُهَا وَهِيَ أُمُّ وَلَدِي وَلِي مِنْهَا اثْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بِي لرَفِيقَةٌ لَطِيفَةٌ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تَذْكُرُكَ فَتَسُبُّكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرَتْكَ وَوَقَعَتْ فِيكَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص کی ایک ام ولد (لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو) تھی جو نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ ﷺ کی بہت زیادہ برائی کرتی تھی، وہ اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات جب اس نے نبی کریم ﷺ کا ذکر (بری طرح) کیا تو وہ صبر نہ کر سکا اور اٹھ کر مغول (چھوٹا خنجر) لے آیا، اسے اس کے پیٹ میں رکھا، پھر اس پر ٹیک لگا کر اسے مار ڈالا، تو صبح اس کے دونوں بچے اس کی ٹانگوں کے درمیان خون میں لتھڑے ہوئے پائے گئے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، لوگوں کو جمع کیا، پھر فرمایا: ”میں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس آدمی نے یہ کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس پر وہ نابینا شخص بلکتا ہوا آگے آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی، میں ہی اس کا مالک ہوں، اور وہ میری اولاد کی ماں ہے، اس سے میرے دو بچے ہیں جو دو موتیوں جیسے ہیں، اور وہ میرے ساتھ بہت نرم اور شفیق تھی، لیکن وہ آپ کا ذکر کر کے آپ کو گالی دیتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ نہ رکتی، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ باز نہ آتی، گزشتہ رات جب اس نے آپ کا ذکر کیا اور آپ کے بارے میں نازیبا بات کی تو میں صبر نہ کر سکا، میں مغول کی طرف اٹھا، اسے اس کے پیٹ میں رکھا، پھر اس پر ٹیک لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَتْ خَمْرَتُنا يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، وَحُرِّمَتْ يَوْمَ حُرِّمَتْ وَمَا هِيَ إِلَّا فَضِيخُكُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہماری شراب اس زمانے میں فضیخ (کچلی ہوئی کھجور کا رس) تھی، اور جس دن حرام ہوئی وہ اسی کے متعلق حرام ہوئی، اور وہ تمہارے فضیخ کے سوا کچھ نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْخَطَّابِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، ثنا حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نمازِ فجر میں قنوت کی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے مردوں میں سے زنانہ پن اپنانے والوں، اور عورتوں میں سے مردانہ پن اپنانے والیوں پر لعنت فرمائی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مردوں میں سے زنانہ پن اپنانے والوں، اور عورتوں میں سے مردانہ پن اپنانے والیوں پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَأَخْرَجَ فُلَانًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مردوں میں سے زنانہ پن اپنانے والوں، اور عورتوں میں سے مردانہ پن اپنانے والیوں پر لعنت فرمائی، اور فلاں شخص کو گھر سے نکال دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أخْرِجُوا الْمُخَنَّثِينَ مِنْ بُيُوتِكُمْ» قَالَ: وَأَخْرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُخَنَّثًا. وَأَخْرَجَ عُمَرُ مُخَنَّثًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زنانہ پن اپنانے والوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے شخص کو نکالا، اور عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایک ایسے شخص کو نکالا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دِيَةُ الْمُكَاتَبِ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ، وَبِقَدْرِ مَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةُ الْعَبْدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مکاتب کی دیت اس کے آزاد شدہ حصے کے بقدر آزاد آدمی کی دیت ہے، اور اس کے غلام حصے کے بقدر غلام کی دیت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَضَى فِي الْمُكَاتَبِ أَنْ يُؤَدِّيَ بِقَدْرِ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةَ الْحُرِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکاتب کے بارے میں فیصلہ دیا کہ وہ اپنے آزاد شدہ حصے کے بقدر آزاد آدمی کی دیت ادا کرے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ مُكَاتَبًا رُفِعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يُؤَدِّي مَا أَدَّى مِنْ مُكَاتِبِهِ دِيَةَ الْحُرِّ، وَمَا لَمْ يُؤَدِّ دِيَةَ عَبْدٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مکاتب کا معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنی کتابت میں سے جتنا ادا کر چکا ہے اس کے بقدر آزاد آدمی کی دیت دے، اور جتنا ادا نہیں کیا اس کے بقدر غلام کی دیت دے۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشيطيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دِيَةُ الْمُكَاتَبِ قَدْرَ مَا عَتَقَ مِنْهُ دِيَةُ الْحُرِّ، وَمَا رَقَّ مِنْهُ دِيَةُ الْمَمْلُوكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مکاتب کی دیت اس کے آزاد شدہ حصے کے بقدر آزاد آدمی کی دیت ہے، اور اس کے غلام حصے کے بقدر غلام (مملوک) کی دیت ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَحْسِبُهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مَنْ نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ أَوْ وَلَدَهُ فَلْيَذْبَحْ كَبْشًا» ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب: ٢١]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما - راوی کا خیال ہے کہ یہ روایت انہی سے ہے - نے فرمایا: ”جو اپنے آپ کو یا اپنی اولاد کو ذبح کرنے کی نذر مانے، وہ اس کے بجائے ایک مینڈھا ذبح کرے۔“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ”بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔“ [سورۃ الاحزاب: 21]
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ نَسِيئَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جانور کو ادھار بیچنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کو عطیہ دینے میں برابر رکھو، اگر میں کسی کو ترجیح دیتا تو عورتوں (بیٹیوں) کو ترجیح دیتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «غَيَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَ إِحْرَامِهِ بِالتَّنْعِيمِ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے تنعیم کے مقام پر اپنا احرام کا کپڑا بدلا، جبکہ آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي الْأَسْبَاطِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَحَاتِمٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْبَاطِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خُطِبَ إِلَيْهِ بَعْضُ بَنَاتِهِ أَتَى الْخِدْرَ فَقَالَ: «إِنَّ فُلَانًا يَخْطُبُ فُلَانَةَ» فَإِنْ طَعَنَتْ فِي الْحَائِطِ لَمْ يُزَوِّجْهَا، وَإِنْ لَمْ تَطْعَنْ فِي الْجِدَارِ أَنْكَحَهَا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کی جب کسی بیٹی کو پیغامِ نکاح دیا جاتا تو آپ ﷺ پردے کے پاس تشریف لاتے اور فرماتے: ”فلاں شخص فلانی سے نکاح کا پیغام دے رہا ہے۔“ اگر وہ دیوار پر (انکار کے طور پر) ہاتھ مارتی تو آپ ﷺ اس کا نکاح نہ کرتے، اور اگر وہ دیوار پر ہاتھ نہ مارتی تو نکاح کر دیتے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَنْمَاطِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، قَالُوا: ثنا سَعِيدُ بْنُ زُنْبُورٍ، ثنا عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ زَوَّجَ فَاطِمَةَ قَالَ: «يَا عَلِيُّ لَا تَدْخُلْ عَلَى أَهْلِكَ حَتَّى تُقَدِّمَ لَهُمْ شَيْئًا» فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا لِيَ شَيْءٌ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «أَعْطِهَا دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو فرمایا: ”اے علی! اپنے گھر والوں کے پاس اس وقت تک مت جانا جب تک انہیں کچھ نہ دے دو۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے پاس کچھ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں اپنی حطمیہ زرہ دے دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوتَى الصَّنْعَانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الذِّمَارِيُّ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «رَدَّ نِكَاحَ بِكْرٍ، وثَيِّبٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهُمَا كارِهَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کنواری اور ایک شوہر دیدہ عورت کا نکاح رد کر دیا جن کا نکاح ان کے باپ نے ان دونوں کی ناپسندیدگی کے باوجود کر دیا تھا۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ» . «اسْمُ أَبِي عَزَّةَ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پچھنے لگوائے اور پچھنے لگانے والے کو اس کی اجرت دی۔
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فَحْلَانِِ فاغَتَلَمَا، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْهِمَا الْبَابَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ لَهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِي اغْتَلَمَا فَأَدْخَلْتُهُمَا حَائِطًا، وسَدَدْتُ الْبَابَ عَلَيْهِمَا، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُما اللهُ لِي فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا مَعَنَا» فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: «افْتَحْ» فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْتَحْ» فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِنَ الْبَابِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشَدُّ بِهِ رَأْسَهُ، وأُمْكِنُكَ مِنْهُ» فَجَاءَ بحطامٍ فَشَدَّ بِهِ رَأْسَهُ، وأَمْكَنَهُ مِنْهُ، ثُمَّ مَشَيَا إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الْآخَرِ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا فَقَالَ لِلرَّجُلِ: «ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشَدُّ بِهِ رَأْسَهُ» فَشَدَّ رَأْسَهُ وأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَقَالَ: «اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لَا يَعْصيانِكَ» فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَانِ فَحْلَانِ لَا يَعْقِلَانِ سَجَدَا لَكَ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ قَالَ: «لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک شخص کے دو نر اونٹ تھے جو مستی میں آ گئے، تو اس نے انہیں ایک باغ میں داخل کر کے ان پر دروازہ بند کر دیا، پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور اس کا ارادہ تھا کہ آپ ﷺ اس کے لیے دعا فرمائیں، جبکہ نبی کریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ انصار کی ایک جماعت تھی، تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک ضرورت لے کر آیا ہوں، میرے دو نر اونٹ مستی میں آ گئے ہیں، تو میں نے انہیں ایک باغ میں بند کر کے دروازہ ان پر مقفل کر دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ انہیں میرے لیے مسخر کر دے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ چلو۔“ چنانچہ آپ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ دروازے پر پہنچے تو فرمایا: ”کھولو۔“ اس آدمی کو نبی کریم ﷺ کی جان کا خدشہ ہوا، مگر آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کھولو۔“ تو اس نے دروازہ کھول دیا، دیکھا تو ایک نر اونٹ دروازے کے قریب تھا، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کو سجدہ کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھوں اور تمہیں اس پر قابو دے دوں۔“ وہ کچھ رسی لے آیا، آپ ﷺ نے اس کا سر باندھ دیا اور اسے اس پر قابو دے دیا۔ پھر دونوں باغ کے دور والے کنارے پر دوسرے اونٹ کے پاس گئے، جب اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو وہ بھی آپ ﷺ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھوں۔“ اس نے اس کا سر باندھا اور اسے اس پر قابو دے دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اب یہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔“ جب نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے یہ دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دو بے عقل جانور آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیتا، اور اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصَّفِّ الْأَوَّلِ، وَعَلَيْكُمْ بِالْمَيْمَنَةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالصَّفِّ بَيْنِ السَّوَارِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلی صف کا خیال رکھو، دائیں جانب کا خیال رکھو، اور ستونوں کے درمیان صف بنانے سے بچو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ النَّرْسِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَوَاتٍ وَسَكَتَ فِي صَلَوَاتٍ» ، فَنَحْنُ نَقْرَأُ فِيمَا قَرَأَ فِيهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَسْكُتُ فِيمَا سَكَتَ فِيهِ فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي نَفْسِهِ فَغَضِبَ، وَقَالَ: أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُتَّهَمُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے بعض نمازوں میں بلند آواز سے قراءت کی اور بعض میں خاموشی اختیار کی،“ تو ہم بھی اسی طرح بلند آواز سے پڑھتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے پڑھا، اور خاموش رہتے ہیں جس میں آپ ﷺ خاموش رہے۔ ان سے کہا گیا: شاید نبی کریم ﷺ اپنے دل میں (خاموشی سے) پڑھتے ہوں؟ تو وہ ناراض ہو گئے اور فرمایا: کیا رسول اللہ ﷺ پر تہمت لگائی جائے؟ کیا رسول اللہ ﷺ پر تہمت لگائی جائے؟
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ أَبُو سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بِشْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ، اہلِ شام کے لیے جحفہ، اور اہلِ یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، ثنا أَبُو ظُفُرٍ عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْأَوَّلُ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» فَجَاءَ الثَّانِي فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَعَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» وَجَاءَ الثَّالِثُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «وَعَلَيْكُمْ» وَأَبُو الْفَتَى جَالِسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، زِدْتَ فُلَانًا وَفُلَانًا وَلَمْ تَزِدِ ابْنِي شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا وَجَدْنَا لَهُ مِنْ زِيَادَةٍ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ مِثْلَ مَا قَالَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تین آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آئے، پہلے نے کہا: السلام علیکم، تو نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: ”وعلیکم ورحمۃ اللہ۔“ پھر دوسرا آیا اور کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ، تو نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: ”وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔“ پھر تیسرا آیا اور کہا: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، تو نبی کریم ﷺ نے جواب دیا: ”وعلیکم۔“ اور اس نوجوان کا باپ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھا تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں اور فلاں کو زیادہ (الفاظ کے ساتھ) جواب دیا، مگر میرے بیٹے کو کچھ زیادہ نہیں دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمیں اس کے سلام میں اضافے کی کوئی گنجائش نہ ملی، تو ہم نے اسے وہی لوٹا دیا جو اس نے کہا تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسْنَاءِ السَّرْخَسِيُّ، ثنا أَبُو الصَّبَّاحِ عَبْدُ الْغَفُورِ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ يَنْتَهِبُ»
وَقَالَ: «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» . وَالشِّغَارُ: أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَتَانِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى بِغَيْرِ صَدَاقٍ
وَقَالَ: «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ» . وَالشِّغَارُ: أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَتَانِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى بِغَيْرِ صَدَاقٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”جو لوٹ مار کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
اور فرمایا: ”اسلام میں شغار (بدل نکاح) جائز نہیں۔“ اور شغار یہ ہے کہ دو عورتوں کا نکاح اس طرح کیا جائے کہ ایک کا نکاح دوسری کے بدلے میں بغیر مہر کے کر دیا جائے۔
اور فرمایا: ”اسلام میں شغار (بدل نکاح) جائز نہیں۔“ اور شغار یہ ہے کہ دو عورتوں کا نکاح اس طرح کیا جائے کہ ایک کا نکاح دوسری کے بدلے میں بغیر مہر کے کر دیا جائے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا عَبْدُ الْغَفُورِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: «الْخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ، ومَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ختنہ مردوں کے لیے سنت اور عورتوں کے لیے معزز عمل ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا عَبْدُ الْغَفُورِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، لَا أَحْسِبُهُ إِلَّا رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الصَّلَاةُ فِي الرِّحَالِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا - راوی کہتے ہیں: مجھے یقین ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے مرفوعاً بیان کیا ہے - : ”اپنی قیام گاہوں میں نماز پڑھ لو۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا خَلَفُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا عَبْدُ الْغَفُورِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَطْلُبُ الْحَاجَةَ فَيَزْوِيها اللهُ عَنْهُ، لَمَّا هُوَ خَيْرٌ لَهُ، فَيَتَّهِمُ النَّاسَ ظَالِمًا لَهُمْ فَيَقُولُ: مَنْ شَبَّعَني "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کسی چیز کی طلب کرتا ہے تو اللہ اسے اس سے روک دیتا ہے، حالانکہ یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے، تو وہ لوگوں پر ظلماً الزام لگاتا ہے اور کہتا ہے: کس نے مجھے (مانگنے سے) سیر کر دیا؟“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الْفَرَّاءُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِصْمَةَ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا كَانَ حَلَالًا: الصَّائِمُ، وَالْمُتَسَحِّرُ، وَالْمُرابِطُ فِي سَبِيلِ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تین لوگوں سے ان کے کھانے کا حساب نہیں لیا جائے گا اگر وہ حلال ہو: روزہ دار، سحری کھانے والا، اور اللہ کے راستے میں پہرہ دینے والا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ عَبْدِ الْغَفُورِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يُوشَكُ أَنْ تَرَوْا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ يَسْمَعُ أَحَدُهُمُ الْحَدِيثَ، فَيُفْشيهِ عَلَى غَيْرِهِ، فَيَصُدُّ النَّاسَ عَنِ اسْتِماعِهِ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي يُحَدِّثُ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم انسانوں میں سے شیطانوں کو دیکھو گے، ان میں سے کوئی ایک بات سنتا ہے تو اسے کسی اور پر افشا کر دیتا ہے، پس وہ لوگوں کو اس کے اصل بیان کرنے والے سے سننے سے روک دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْقِرْمِطِيُّ الْعَدَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْماوَرْدِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيَّدَني بِأَشَدِّ الْعَرَبِ أَلْسُنًا وأَذْرُعًا بَنِي قَيْلَةَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے زبانوں اور بازوؤں کے اعتبار سے عربوں کے سب سے مضبوط لوگوں - بنی قیلہ، یعنی اوس و خزرج - سے میری تائید فرمائی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْءٌ لَا يُرَدُّ قَالَ: " نَعَمْ، تَقُولُ: أَسْأَلُكَ بِاسْمِكِ الْأَعْلَى الْأَعَزِّ الْأَجَلِّ الْأَكْرَمِ "
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةَ «اغْتَسَلَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ جَنَابَةٍ، وتَوَضَّيَا جَمِيعًا لِلصَّلَاةِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، أَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ الْجُنُبَ، وَلَا الْمُضْمَخَ بِالْخَلُوقِ بِخَيْرٍ حَتَّى يَغْتَسِلَا»
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةَ «اغْتَسَلَا مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ مِنْ جَنَابَةٍ، وتَوَضَّيَا جَمِيعًا لِلصَّلَاةِ»
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، أَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ السَّدُوسِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَحْضُرُ الْجُنُبَ، وَلَا الْمُضْمَخَ بِالْخَلُوقِ بِخَيْرٍ حَتَّى يَغْتَسِلَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنابت کے بعد ایک ہی برتن سے غسل کیا، اور دونوں نے نماز کے لیے اکٹھے وضو کیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے جنبی شخص کے پاس، اور خلوق (خوشبو) میں لتھڑے ہوئے شخص کے پاس خیر لے کر حاضر نہیں ہوتے، یہاں تک کہ وہ دونوں غسل کر لیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے جنبی شخص کے پاس، اور خلوق (خوشبو) میں لتھڑے ہوئے شخص کے پاس خیر لے کر حاضر نہیں ہوتے، یہاں تک کہ وہ دونوں غسل کر لیں۔“
حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَلَفٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو سُفْيَانَ الْغَنَوِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مَيْمُونٍ الْقَنَّادِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «جَعَلَ اللهُ الْكَلَامَ لِمُوسَى، وَالْخُلَّةَ لِإِبْرَاهِيمَ، وَالنَّظَرَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ نے کلام موسیٰ علیہ السلام کو دیا، خلت ابراہیم علیہ السلام کو دی، اور نظر (دیدار) محمد ﷺ کو دی۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ السَّقَطِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ صُبَيْحٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو غسل کے بعد دوبارہ وضو کرے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَوَضَعَ عَبْدَ اللهِ وَمُحَمَّدًا ابْنِي جَعْفَرٍ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ اسْتَشْهَدَ جَعْفَرًا، وَأَنَّ لَهُ جَنَاحَيْنِ يَطِيرُ بِهِمَا مَعَ الْمَلَائِكَةِ فِي الْجَنَّةِ» ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي وَلَدِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم ﷺ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جعفر رضی اللہ عنہ کے دونوں بیٹوں عبداللہ اور محمد کو اپنی ران پر بٹھایا، پھر فرمایا: ”جبریل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ اللہ عزوجل نے جعفر کو شہادت عطا فرمائی، اور اسے دو پر دیے ہیں جن سے وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتا ہے۔“ پھر فرمایا: ”اے اللہ! جعفر کی اس کی اولاد میں جانشینی فرما۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنَا شَبِيبُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وتَقَلُّبَكَ فِي السَّاجِدِينَ} [الشعراء: ٢١٩] قَالَ: «مَنْ نَبِيٍّ إِلَى نَبِيٍّ حَتَّى أُخْرِجْتَ نَبِيًّا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ﴿اور سجدہ کرنے والوں میں تیری آمد و رفت کو﴾ [سورۃ الشعراء: 219] کے بارے میں فرمایا: ”یعنی ایک نبی سے دوسرے نبی تک، یہاں تک کہ آپ ﷺ کو نبی بنا کر نکالا گیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ شَبِيبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَلَاءَ، ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا تَوْرٌ مُغَطًّى قَالَ: «مَنْ صَنَعَ هَذَا؟» قَالَ عَبْدُ اللهِ: أَنَا، قَالَ: «اللهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء میں تشریف لے گئے، پھر باہر آئے تو ایک ڈھکا ہوا برتن دیکھا، پوچھا: ”یہ کس نے کیا؟“ عبداللہ (ابن عباس) نے کہا: میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! اسے قرآن کی تاویل سکھا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، وَعِكْرِمَةِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِضُبَاعَةَ: «حُجِّي وَاشْتَرِطِي وَقُولِي إِنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ ضباعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”حج کرو اور شرط لگا لو، اور کہو: میرا احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو نے مجھے روک دیا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ الْجُدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِنِصْفِ دِينَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں مباشرت کی، تو نبی کریم ﷺ نے اسے آدھا دینار صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
…