المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلَوَيْهِ الْقَطَّانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ أَعْمَى كَانَتْ لَهُ أُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُكْثِرُ الْوَقِيعَةَ فِيهِ، فَيَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَيَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةٌ ذَكَرْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَامَ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى قَتَلَهَا، فَأَصْبَحَ طِفْلَيْهَا بَيْنَ رِجْلَيْهَا مُلَطْخَيْنِ بِالدَّمِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَجَمَعَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ: «أَنْشُدُ اللهَ رَجُلًا عَلَيْهِ حَقٌّ فَعَلَ مَا فَعَلَ لَمَا قَامَ» فَأَقْبَلَ الْأَعْمَى يَتَوَلْوَلُ فَقَالَ: أَنَا وَاللهِ يَا نَبِيَّ اللهِ صَاحِبُهَا وَهِيَ أُمُّ وَلَدِي وَلِي مِنْهَا اثْنَانِ مِثْلُ اللُّؤْلُؤَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بِي لرَفِيقَةٌ لَطِيفَةٌ، وَلَكِنَّهَا كَانَتْ تَذْكُرُكَ فَتَسُبُّكَ، فَأَنْهَاهَا فَلَا تَنْتَهِي، وَأَزْجُرُهَا فَلَا تَنْزَجِرُ، فَلَمَّا كَانَتِ الْبَارِحَةُ ذَكَرَتْكَ وَوَقَعَتْ فِيكَ فَلَمْ أَصْبِرْ أَنْ قُمْتُ إِلَى الْمِغْوَلِ فَوَضَعْتُهُ فِي بَطْنِهَا، ثُمَّ اتَّكَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى قَتَلْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا شخص کی ایک ام ولد (لونڈی جس سے اس کی اولاد ہو) تھی جو نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتی اور آپ ﷺ کی بہت زیادہ برائی کرتی تھی، وہ اسے منع کرتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات جب اس نے نبی کریم ﷺ کا ذکر (بری طرح) کیا تو وہ صبر نہ کر سکا اور اٹھ کر مغول (چھوٹا خنجر) لے آیا، اسے اس کے پیٹ میں رکھا، پھر اس پر ٹیک لگا کر اسے مار ڈالا، تو صبح اس کے دونوں بچے اس کی ٹانگوں کے درمیان خون میں لتھڑے ہوئے پائے گئے۔ یہ بات نبی کریم ﷺ سے ذکر کی گئی تو آپ ﷺ کھڑے ہوئے، لوگوں کو جمع کیا، پھر فرمایا: ”میں اللہ کا واسطہ دے کر اس آدمی سے کہتا ہوں جس پر میرا حق ہے، جس نے یہ کیا ہے وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس پر وہ نابینا شخص بلکتا ہوا آگے آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی، میں ہی اس کا مالک ہوں، اور وہ میری اولاد کی ماں ہے، اس سے میرے دو بچے ہیں جو دو موتیوں جیسے ہیں، اور وہ میرے ساتھ بہت نرم اور شفیق تھی، لیکن وہ آپ کا ذکر کر کے آپ کو گالی دیتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ نہ رکتی، میں اسے ڈانٹتا مگر وہ باز نہ آتی، گزشتہ رات جب اس نے آپ کا ذکر کیا اور آپ کے بارے میں نازیبا بات کی تو میں صبر نہ کر سکا، میں مغول کی طرف اٹھا، اسے اس کے پیٹ میں رکھا، پھر اس پر ٹیک لگا کر اسے مار ڈالا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“