المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ، ثنا أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدِينِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهُ فَحْلَانِِ فاغَتَلَمَا، فَأَدْخَلَهُمَا حَائِطًا فَسَدَّ عَلَيْهِمَا الْبَابَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ لَهُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي جِئْتُ فِي حَاجَةٍ وَإِنَّ فَحْلَيْنِ لِي اغْتَلَمَا فَأَدْخَلْتُهُمَا حَائِطًا، وسَدَدْتُ الْبَابَ عَلَيْهِمَا، فَأُحِبُّ أَنْ تَدْعُوَ لِي أَنْ يُسَخِّرَهُما اللهُ لِي فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا مَعَنَا» فَذَهَبَ حَتَّى أَتَى الْبَابَ فَقَالَ: «افْتَحْ» فَأَشْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «افْتَحْ» فَفَتَحَ الْبَابَ فَإِذَا أَحَدُ الْفَحْلَيْنِ قَرِيبٌ مِنَ الْبَابِ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشَدُّ بِهِ رَأْسَهُ، وأُمْكِنُكَ مِنْهُ» فَجَاءَ بحطامٍ فَشَدَّ بِهِ رَأْسَهُ، وأَمْكَنَهُ مِنْهُ، ثُمَّ مَشَيَا إِلَى أَقْصَى الْحَائِطِ إِلَى الْفَحْلِ الْآخَرِ، فَلَمَّا رَآهُ وَقَعَ لَهُ سَاجِدًا فَقَالَ لِلرَّجُلِ: «ائْتِنِي بِشَيْءٍ أَشَدُّ بِهِ رَأْسَهُ» فَشَدَّ رَأْسَهُ وأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَقَالَ: «اذْهَبْ فَإِنَّهُمَا لَا يَعْصيانِكَ» فَلَمَّا رَأَى أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَانِ فَحْلَانِ لَا يَعْقِلَانِ سَجَدَا لَكَ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ قَالَ: «لَا آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ وَلَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا يَسْجُدُ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا»…انصار میں سے ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں ایک ضرورت لے کر آیا ہوں، میرے دو نر اونٹ مستی میں آ گئے ہیں، تو میں نے انہیں ایک باغ میں بند کر کے دروازہ ان پر مقفل کر دیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیے دعا فرمائیں کہ اللہ انہیں میرے لیے مسخر کر دے۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”ہمارے ساتھ چلو۔“ چنانچہ آپ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ دروازے پر پہنچے تو فرمایا: ”کھولو۔“ اس آدمی کو نبی کریم ﷺ کی جان کا خدشہ ہوا، مگر آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”کھولو۔“ تو اس نے دروازہ کھول دیا، دیکھا تو ایک نر اونٹ دروازے کے قریب تھا، جب اس نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کو سجدہ کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھوں اور تمہیں اس پر قابو دے دوں۔“ وہ کچھ رسی لے آیا، آپ ﷺ نے اس کا سر باندھ دیا اور اسے اس پر قابو دے دیا۔ پھر دونوں باغ کے دور والے کنارے پر دوسرے اونٹ کے پاس گئے، جب اس نے آپ ﷺ کو دیکھا تو وہ بھی آپ ﷺ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا: ”مجھے کوئی چیز لا دو جس سے میں اس کا سر باندھوں۔“ اس نے اس کا سر باندھا اور اسے اس پر قابو دے دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ، اب یہ تمہاری نافرمانی نہیں کریں گے۔“ جب نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے یہ دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دو بے عقل جانور آپ کو سجدہ کر رہے ہیں، تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم نہیں دیتا، اور اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔“